سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

ریلوے اسٹیشن

لطائف
***************************
ایک بے وقوف کے پاس ریڈیو تھا ۔ایک دن وہ خراب ہو گیا تو وہ مستری کی دوکان پر لے گیا ۔مستر ی سے کہتا ہے کہ میرا ریڈیو خراب ہو گیا ہے ۔مستری جونہی اسے کھولتا ہے تو ریڈیو سے چوہا نکل گیا۔ اس بے وقوف نے مستری سے کہا میرا ریڈیو واپس کر۔ مستری نے کہا ٹھیک تو کرنے دو۔ بے وقوف نے کہا: اس میں جو گانے والا تھا وہ تو نکل گیا اب کیا فائدہ۔
***************************
ایک آدمی بلا ٹکٹ ٹرین میں سفر کر رہا تھا ۔ ٹکٹ چیکر جب بھی آتا وہ نماز پڑھنا شروع کر دیتا ۔تیسری بار جب ٹکٹ چیکر آیا تووہ مسافر کے پیچھے کھڑا ہو گیا جیسے ہی اس نے سلام کیا تو اس نے ٹکٹ چیکر کو دیکھا جب اس نے ٹکٹ کے بارے میں پوچھا تو وہ فورا بولا : نیت کرتا ہوں میں ہزار رکعت نماز کی ،’’ اللہ اکبر۔‘‘
***************************
ایک بچے کو جب بھا ئی چارے کا جملہ بنانے کو کہا گیا تو اس نے کچھ یوں بتا یا ،جب کسی سے پوچھوں کہ دودھ مہنگا کیوں بیچتے ہو تو وہ بولا کہ بھا ئی چارہ بہت مہنگا ہو گیا ہے ۔
***************************
تین حضرات ریلوے اسٹیشن پر کھڑے تھے ۔ تینوں آپس میں باتوں میں اس قدر محو تھے کہ اُن کو پتہ ہی نہ چلا کب ٹرین آگئی اور لوگ اس پر سوار ہو گئے۔جب ٹرین چلنے لگی تو تینوں کو ہوش آیا ۔تینوں ٹرین کے پیچھے بھاگے دو تو کسی نہ کسی طرح چڑھ گئے۔ایک صاحب رہ گئے۔وہ اداس اور خاموش سے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ایک قُلی ان کے پاس آیا اور بولا :
’’ صاحب! پریشان کیوں ہوتے ہیں ۔جہاں آپ نے جانا ہے ،دو گھنٹے بعدایک ٹرین آئے گی۔آپ اس پر چلے جانا۔‘‘
وہ صاحب سرد آہ بھر کر بولے !
’’میں تو کسی نہ کسی طرح چلا ہی جاؤں گا ،پر ان دونوں کا کیا کروں جو مجھے چھوڑنے آئے تھے۔‘‘
***************************
پاکستان اور پڑوسی دشمن کی فوجیں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹی ہوئی تھیں۔ کافی دن گزر گئے مگر فائر نہیں ہوا ۔پاکستانی فوجیوں نے سوچا مزہ نہیں آرہا ۔ کسی اور طریقے سے لڑائی کی جائے۔بہت دماغ لڑانے کے بعد ایک فوجی کے ذہن میں اچھی خاصی ترکیب آگئی۔اس نے سب کو اکٹھا کر کے کہا کہ ایسا کرتے ہیں آج دشمن کے نام لے لے کر مارتے ہیں ۔سب اس کی بات پر متفق ہو گئے ۔چنانچہ پاکستانی کمانڈر نے للکارا۔
’’ وریندر سنگھ کھڑا ہو جائے۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا تو ایک پاکستانی نے گولی چلا دی اور سے وہیں ڈھیر کر دیا ۔
’’ واجی پائی تائی سنگھ اسٹینڈاپ ۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا اور گولی چلا کر اسے گرا دیا گیا ۔
اگلے دن دشمن نے بھی یہی منصوبہ تیا ر کیا اور سوچا کہ چلو اللہ دتہ نام زیادہ ہوتا ہے ۔
چنانچہ انہوں نے للکارا !
’’ اللہ دتہ کھڑا ہو جائے ۔‘‘
اللہ دتہ کھڑا نہ ہوا بلکہ اس نے اپنی پوزیشن سے ہی آواز لگائی ۔
’’ مجھے کس نے پکا را ہے ؟‘‘
پکارنے والا کھڑا ہو گیا تو اللہ دتہ نے اس پر بھی گولی چلا دی۔
***************************

FacebookTwitterGoogle+Share