سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

اپنے کپڑے پاک رکھیں اور گندگی سے احتراز کریںْ

معلومات
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دینِ فطرت ہے ۔اللہ تعالی نے اپنے اس دین کو تمام انسانوں ، خاص طور پر مسلمانوں کو تمام چھوٹی اور بڑی باتوں سے قرآن اور حدیث کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے ۔طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔ آج کے دور میں صفائی کا خیال کو رکھا جاتا ہے لیکن شرعی اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ،اگر شرعی اصولوں کے مطابق طہارت نہ ہو گی تو ہماری کوئی بھی عبادت قبول نہ ہوگی ۔طہارت میں دوچیزیں شامل ہیں ۔
وضو اور غسل
نماز سے پہلے وضو کرنا لازمی ہے بشرطیکہ جسم اور لباس پاک ہو اگر جسم اور لباس پاک نہیں تو وضوسے پہلے غسل کرنا اور لباس کو پاک کرنالازمی ہے۔ کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے ۔انسان صاف ستھرا رہتا ہے اور اس کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے ۔نہانے سے پورا جسم صاف ہو جا تا ہے اور اس طرح صفائی کے باعث بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ رہتا ہے ۔وضو کرنے اور نہانے سے ظاہری صفائی بھی حاصل ہوتی ہے اور روحانی بھی ۔عبادت اور کام کرنے میں لطف آتا ہے اس طرح عبادت بھی قبول ہوتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام کی آمد سے قبل جہاں عرب معاشرہ بے شمار سماجی اور اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا وہیں جسمانی اور ماحولیاتی گندگی بھی اس سماج کا ایک لازمی جزو تھی ۔ان کا رہن سہن اور طور طریقے کسی اصول کے پابند نہ تھے ۔وہ اپنے گھروں میں صفائی کو اہمیت نہ دیتے تھے ۔حضور ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھروں کوصاف رکھو اور یہودیوں کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔‘‘
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔جسم کے اعضاء کو صاف رکھنے اور صاف ستھرا لباس پہننے کا عمل طہارت کہلاتا ہے ۔جسم کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خیالات کو بھی پاکیزہ رکھا جائے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ خدا تعالی نے اسلام کی بنیاد پاکیزگی اور صفائی پر رکھی اور جنت میں وہی داخل ہو گا جو پاک و صاف ہو گا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
حضورﷺکی کھانے کے متعلق یہ عادت تھی کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے اور سیدھے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھانا نوش فرماتے ۔ اس سے حضورﷺ کی صفائی پسند طبیعت کا پتہ چلتا ہے ہمیں بھی کھانا کھانے سے پہلے ضرور ہاتھ دھونے چاہیں اور کھانے کو ہمیشہ طریقے سے کھانا چاہیے تا کہ ہمارے کھانے میں صفائی اور طریقے کا پہلو نظر آئے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جسمانی صفائی کے لیے ناخنو ں کی صفائی بھی ضروری ہے یہ ہمارے جسم کا اہم حصہ ہیں اور بڑھے ہو ئے ناخن ہماری شخصیت پر منفی اثر مرتب کرتے ہیں ۔ہمیں بھی سنت کے مطابق ناخن کاٹنے چاہیں تا کہ جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ سنت پر بھی عمل ہو اور ہمیں ثواب بھی ملے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جمعہ کے دن غسل کیا کرو اگرچہ پانی ایک دینا ر میں بکتا ہو۔‘‘ (میزان :۲۱۳۲)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غسل کا اہتمام کتنا ضروری ہے اگرچہ جمعہ کو اس کی فضیلت زیادہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمیشہ صاف ستھری عادات اپنائیں تاکی آپ صحت مند رہیں ۔ہمیشہ جب بھوک لگے تب کھائیں اور چند نوالے کم ہی کھائیں ۔اچھی صحت کے لیے گہری اور پر سکون نیند ضروری ہے۔ اپنے ماحول کو بھی صاف رکھیں تاکہ آپ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ ارشادِ بار ی تعالی ہے :
(  ۔)
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

FacebookTwitterGoogle+Share