سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

science

 معلومات
جب اللہ تعالی نے انسان کو زمین کو پر اتارا تو ابتداء سے ہی اس کو بے شمار مسائل نے گھیر لیا۔پہلے تو انسان نے تکالیف کا مقابلہ کیا لیکن پھر آہستہ آہستہ اپنی عقل سے کام لے کر مسائل کو حل کرنا شروع کیا۔ انسان کا سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ خوراک کا تھا جس کا حل اس نے بہت جلد تلاش کر لیا ۔پھر موسموں کی شدت سے بچنے کا سوال پیدا ہوااس نے غاروں کو گھر اور درختوں کے پتوں کو لپیٹ کر جسم کی حفاظت اور دشمن سے بچاؤکے لیے پتھروں کو ہتھیار بنا لیا۔انسان کی سب سے بڑی کامیابی پہیے کی ایجاد تھی۔ہزاروں سال پہلے لکڑی کا پہیہ ایجاد کر کے سفر کا آغاز کیا گیا۔ آج لوہے کا پہیہ ایجاد کر لیا گیا ہیاور ریل جیسی تیز رفتار گاڑی کو سفر کا وسیلہ بنایا گیا ۔یہ پہیہ ہی ہے جس کی وجہ سے فاصلے سمٹ آئے اور سفر آسان ہو گیا ہے۔سائنس کی سب سے بڑی دریافت بجلی ہے ۔بجلی کی دریافت نے ہماری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔بجلی کے ذریعے انسان نے بے شمار عیش و آرام حاصل کیا ہے۔ گرمیوں میں گرمی سے بچنے کے لیے بجلی کے پنکھے ،روم کولر ،ائیر کنڈیشنزاور سردی میں ٹھنڈکسے بچنے کے لیے ہیٹر بنائے گئے ۔بجلی نے انسان کی بہت زیادہ مددکی ہے بجلی نے سائنسی ترقی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
معلومات
سائنس نے حیرت انگیز طور پر بے حد ترقی ہے۔ آج سائنس کی بدولت بیماروں کو شفا، اندھوں کیلئے آنکھیں اور بہت سے امراض کیلئے حیرت انگیز علاج دریافت ہوچکے ہیں ۔سائنس کی بدولت فن طب میں بے حد ترقی ہوئی جس کی وجہ سے شرح اموات میں پہلے کی نسبت بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔آبادی کے اضافے اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظربجلی کی توانائی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔سائنس کی ایک اور ایجاد بلکہ شاندار ایجاد ’’ہوائی جہاز‘‘ ہے ۔ اس کے ذریعے انسان نے فضاؤں کی وسعتوں پر قابو پا لیا ہے اور دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا ہے ،اب تو تیز رفتار طیارے بن ر ہیں ۔راکٹ تیار کر کے انسان چاند پر جا پہنچا ہے ۔چاند جو انسان کی پہنچ سے بہت دور تھا راکٹ کے ذریعے انسان نے اس کو زیر کر لیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب انسان چاند پر آباد نظر آئے گا۔سائنس کی بدولت آج انسان نے زمین کا سینہ چیر کر قیمتی معدنیات حاصل کی ہیں ۔ عرب کے ریگستان میں جہاں ہر طرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے وہاں سائنسی تحقیق کی بدولت سائنس دانوں نے تیل کے بے شمار کنوئیں دریافت کئے ہیں جن کی بدولت آج عرب دنیا تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ اس کے علاوہ لوہا،کوئلہ،نمک ،سونا ،چاندی جیسی معدنیات بھی انسان نے صرف سائنسی تعلیم کی بدولت حاصل کی ہیں ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
معلومات
سائنس کی ایک اور بلکہ شاندار ایجاد ’’ہوائی جہاز‘‘ ہے۔اس کے ذریعے انسان نے فضاؤں کی وستعوں کو ماپ لیا ہے اور دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو نے لگا ہے اب تو تیز رفتار طیار ے بن رہے ہیں ۔راکٹ تیار کر کے انسان چاندپر جا پہنچا ہے۔چاند جو انسان کی پہنچ سے بہت دور تھا راکٹ کے ذریعے انسان نے اس کو زیر کرلیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب انسان چاند پر آباد نظر آئے گا ۔سائنس کی بدولت آج انسان نے زمین کا سینہ چیر کر قیمتی معدنیات حاصل کی ہیں ۔عرب کے ریگستان میں جہاں ہر طرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے وہاں سائنسی تحقیق کی بدولت سائنس دانوں نے تیل کے بے شمار کنوئیں دریافت کیے ہیں جن کی بدولت آج عرب دنیا تیل کی دولت سے مالا مال ہے ۔اس کے علاوہ لوہا،کوئلہ ، نمک ،سونا اور چاندی جیسی معدنیات بھی انسان نے صرف سائنسی تعلیم کی بدولت حاصل کی ہیں ۔

FacebookTwitterGoogle+Share

ایک صاحب حجام کی دوکان پر بال کٹوانے گئے۔جب بال کٹوانے کے لئے بیٹھے تو حجام نے پو چھا بال کیسے کٹوانے ہیں؟
وہ صاحب بولے ، خاموشی سے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
فقیر (لڑکے سے )ایک روپے کا سوال ہے بابا
لڑکا بابا سوال اس طرح حل نہیں ہوتے،کاپی پہ لکھ کر دو۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

استاد (شاگرد سے)ادریس بتاؤ کہ آنے والے کی کیاا نگریزی ہے ؛ٹو مارو
ادریس ؛استاد
شاباش اور پرسوں کی
ادریس ؛تھری مارو
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جج چور سے ،تم دکان کے تالے کیوں کھول رہے تھے ؟
چور ،جناب مجھے گری ہوئی چابی ملی۔میں اس کو لگا کر دیکھ رہا تھا کہ کونسی دوکان کی ہے تاکہ اسے واپس کر دوں

*بچوں كى جنسي تربيت*

بچوں کی جنسی تربیت کیسے کریں؟

ہم سب اس الجھن کا شکار ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینی چاہئے یا نہیں؟
اس موضوع پہ اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں.مگر ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے. یہ بات طے ہے کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سیکولر و لبرل طبقہ ہمارے بچوں کی اس معاملے میں جس قسم کی تربیت کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے وہ ہر باحیا مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے.
مگر یہ بھی ضروری ہے کہ نوعمر یا بلوغت کے قریب پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا جائے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا.
چند فیصد لبرل مسلمانوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں کے بزرگوں کی اکثریت آج کی نوجوان نسل میں بڑھتی بے راہ روی سے پریشان ہے. وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے *ان شاءاللّہ تعالی*ٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.

★ *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے. بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ *تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے*
جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں.

★ بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں.
تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.

★ *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے مت بیٹھنے دیں*
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

★ *بچوں کو فارغ مت رکھیں*
فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے.
اس لیے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.

★ ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی، گہری نیند سوئے.

★ *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں*
یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے.
اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.

★ بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ھی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.

★ *اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں*
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.

★ *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں*
حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
ان دو پوسچرز میں لیٹنےسے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.

★ *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں* تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.
اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

★ *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں*
یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے.

★ *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں* اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں.
بچوں کو عادی کریں کہ کسی کے پاس تنہائی میں نہ جائیں چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی اور نہ ہی کسی کو اپنے اعضائے مخصوصہ کو چھونے دیں.

★ *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں* تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.

★ *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں*
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے.
مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں.
کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے.
یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، بچے آپکے نہیں.
آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہیے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.

★ بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو. اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں.

★ *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں*
ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے.
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سر زنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں.
ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بے باکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے.

★ *تیرہ، چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں* یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں. کہ کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں اللّہ تعالی کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالی* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے

★ آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں *حرام* سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *ان شاءاللّہ تعالیٰ* آخرت میں *اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے *حلال* سے افطاری کریں گے.

*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی *حفظ و امان* میں رکھے.!!!

*آمین یارب*

پلیز آگے شیر کرے تاکہ ان اہم معلومات کا سب کو پتہ چل جاۓ.

شکریہ:

badal۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰بادل کیسے بنتے ھیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

سورج کی حرارت کی وجہ سے ندی، نالوں، دریاؤں، نہروں سے پانی بخارات بن کر اْڑ جاتا ہے پودوںکی سطح سے بھی پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے ۔ یہ بخارات ٹرانسپائریشن کا عمل کہلاتاہے۔ یہ بخارات ہوا میں شامل ہوجاتے ہیں لگاتارسورج کی حرارت کی وجہ سے گرم ہوا چلتی ہے، ہوا پھیلتی ہے اور ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا بخارات کو اپنے اندر اتنا جزب نہیں کر سکتی جتنا گرم ہو ا کرتی ہے، بخارات جب چھوٹے چھوٹے پانی کے قطروں کی شکل میں بھاپ بناتے ہیں تو بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جب پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے مزید ٹھنڈے ہو جاتے ہیں تو مل کر بڑے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں یہ بڑے قطرے بارش یا برف کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بارش کا پانی دوبارہ ندی نالوں، دریاؤں، نہرو ں یا زمین میں واپس آجاتاہے۔ نہروں، دریاؤؤں وغیرہ سے پانی سمندرمیں چلاجاتا ہے۔
ایک سکینڈ میں تقریبا 16))سولہ میلین ٹن پانی زمین سے بخارات بن کر اڑتا ہے۔بارش کی رفتار 8کلومیٹرسے10کلومیٹرفی گھنٹہ ہے، بادل تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ زمین سے اونچائی کی بنیاد پر بادل تین قسم کے ہوتے ہیں۔
( Low cloud) یہ پانی کے قطروں سے بنتے ہیں اورزمین سے 2000 میٹربلندہوتے ہیں۔ (Medium cloud) یہ بھی پانی کے قطروں سے بنتے ہیں لیکن یہ زمین سے دو ہزار (2000)سے (7000)میٹر بلند ہوتے ہیں۔ (High cloud ) عام طورپر برف کے ٹکڑوں سے مل کر بنتے ہیں، اور یہ زمین سے 5,500سے14000میٹربلند ہوتے ہیں، یہ بادل عموماً کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔
صبح سویرے یارات کے وقت بخارات بھاپ کی شکل میں ہوا میں شامل ہوجاتے ہیںاورپھر زمین پرشبنم کی شکل میں آتے ہیں۔ سردیوں میں جب صبح کے وقت درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے توپانی کے قطرے جم جاتے ہیں اور دھند کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ٓٓ