سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

Pakistan Independence

Indian-terrorism-Hindu-extremists-Genocide-of-Muslims-Kashmir-4
 تم ابھی زندہ ہو
1947
  کے ظلم وستم کی باتیں تو ہم نے بہت سنی ہے۔۔اور کہنے والے یہ بھی کہ دیتے ہیں۔ پاکستان  نہیں بننا چاہیے تھا۔ لیکن یہ واقع صرف 14سال پرانا ہے۔ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ یہ تحریر اردو  ڈائجسٹ میں شائع ہوئی تھی ۔اس کا ایک کہ حصہ پیش کیا جارہا ہے۔
پندرہ سال قبل گلبر گ سوسائٹی زندگی کی چہل پہل سے بھر پور آباد تھی۔ وہاںبچوں کی قلقاریاںگونجتی تھیں ۔ ننھے بچے سوسائٹی کے میدان میںکرکٹ کھیلتے نظر آتے ۔مائیںقریبی بازاروں سے سودا سلف لے آتیں۔غرض وہاں سب لوگ پیار محبت سے اپنی زندگیاں گزار رہے تھے ۔یہ سوسائٹی بھارتی ریا ست ،گجرات کے شہر احمد آباد میں واقع تھی۔اس سوسائٹی میں
متمول مسلمانوںنے گھر یا فلیٹ بنا رکھے تھے۔تاہم بعض غیر مسلم گھرانے بھی آباد تھے۔یہ سوسائٹی کانگرس کے مشہور رکن لوک سبھا ،احسان جعفری نے بنوائی تھی ۔وہ بھی مع اہل خانہ و ہیں مقیم تھے۔
   چو دہ سال قبل اچانک سوسائٹی میں آباد چالیس گھرانوں پر آفت ٹوٹ پڑی۔ ہوا یہ کہ ۲۷فروری ۰۰۲ ۲ کو ریاستی شہر ،گوادر میں سبر امتی ایکسپر یس نامی ریل کی چند بوگیاں پراسرار انداز
میں جل کر راکھ ہو گئیں ۔ان میں سنگھ پریوار [قوم پرست ہندو جماعتوں ]کے کارکن سوار تھے ۔ وہ بھی جل کر کوئلہ بن گئے ۔سنگھ پریوار نے دہائی مچادی کہ انکی بوگیوںکو گودھرا کے مسلمانوں نے ’’منصوبہ بندی‘‘سے آگ لگائی ہے ۔ وزیر اعلی نریندر مودی سمیت سنگھ پریوار کے تمام مسلمان مخالف لیڈ ر اشتعال انگیزتقریریں کرنے لگے جنہوں نے ہندووَں کے جذبات بھڑکا دیے۔چنانچہ۲۸ فروری پوری ریاست میں ہندووں کے مسلح جھتے مسلمانوں کے گھروں،دکانوں اور املاک پر حملے کرنے لگے۔ اس دن ہندو غنڈے حیوان بن گئے۔
انہوں نے نہتے بے بس مسلمانوں پر جو خوف ناک مظالم ڈھائے،ان کی بابت جان کر انسان ٹھرا اٹھتا ہے۔انتہائی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں کو وزیراعلی گجرات نریندر مودی کی مکمل حمایت اور شیرآبادحاصل تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں ریاست گجرات کے ڈھائی تین ہزار مسلمانوںکا لرزہ خیز قتل عام نریندر مودیکی قیادت میں انجام پایا۔اس امر کی گواہی کئی باضمیر ہندو بھی دے چکے۔
        ۲۸ فروری کی صبح ہندووں کے ایک جتھے نے گلبرگ سوسائٹی کا محاصرہ کرلیا۔احسان جعفری نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کی خاطر پولیس سے مدد مانگی ،ڈپٹی کمشنر کوفون کیے۔حتیٰ کہ وزیر اعلی سے بھی رابطہ کیا،مگر کوئی شنوائی نہ ہو ئی ۔واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ گلبرگ سوسائٹی کا محاصرہ ’’چھ گھنٹے‘‘ تک جاری رہااور پولیس محصورین کی مددکرنے نہ
پہنچ سکی ۔
  سہ پہر تک سوسائٹی کے باہر چار پانچ ہزار مسلح ہندو جمع ہو چکے تھے۔یہ ہندو ترشولوں،تلواروں ،بندوقوں ،چھروںاور مٹی کے تیل والوں ڈبوں سے لیس تھے۔جلد ہی انھوں نے اہل سوسائٹی پرہلہ بول دیا۔وہہر مسلمان کو پکڑتے ،چھروں سے ان کے اعضا کاٹتے اور ان پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دیتے ۔ احسان جعفری سمیت ۳۵ مسلمان مردو عورتیں اسی بے رحمانہ انداز میں شہید کر دئیے گئے ۔سو سائٹی کے ۳۱ مکینوں کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہوہ کہاں گئے۔یوںاس دن ہندوغنڈوں نے ہنستی بستی گلبرگ سوسائٹی کے مکینوں کو تبا ہ و برباد کر ڈالا۔سوسائٹی کے چند مکین خوش قسمتی سے اپنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔ ان میں احسان جعفری کی بیگم ذکیہ اور ایک پارسی خاتون ،روپا بہن مودی شامل تھیں ۔روپا بہن سوسائٹی
میںاپنے شوہر،سائرس،دس سالہ بیٹے اظہرمودی اور بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں۔ ۲۸ فروری کے ہنگامے  میںان کا بیٹا لاپتہ ہو گیااور پھر کبھی نہ مل سکا۔روپا بہن کی خون آلود داستان پر ایک
فلم’’پارزینہ ‘‘ بھی بن چکی ہے۔احسان جعفری نے مودی کو فون کیا تو مودی کہنے لگا کہ تم ابھی زندہ ہو۔۔۔

Copyright © 2016. All Rights Reserved.