سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

پیارے نبی

رسول مجتبیﷺ کہیے، محمد مصطفیﷺ کہیے

خدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے

شریعت کا ہے یہ اصرار ختم الانبیاء کہیے

محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب خداﷺ کہیے

جب ان کا ذکر ہو دینا سراپا گوش ہو جائے

جب سن کا نام آئے مرحبا صل علی کہیے

مرے سرکارﷺ کے نقش قدم شمع ہدایت ہیں

یہ وہ منزل ہے جس کو مغفرت کا راستہ کہیے

محمد کی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا

اسی کو ابتدا کہیے اسی کو انتہا کہیے

غبار راہ طیبہ سرمہ چشم بصیرت ہے

یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاک شفا کہیے

مدینہ یاد آتا ہے تو پھر آنسو نہیں رکتے

مری آنکھوں کو ماہر، چشمہ آب بقا کہیے

FacebookTwitterGoogle+Share

یوم تجدید:
12 ربیع الاول کو ہر سال ہم عید میلاد النبیﷺ مناتے ہیں ۔اس دن ہمارے پیارے نبیﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی تھی۔عید میلاد النبی کا دن بڑا ہی مبارک دن ہے اس دن آقا و غلام ،غریب و امیر کا فرق مٹانے والا ختم المرسلین نبی آخر الزمان دنیا میں تشریف لائے تھے جن کی آمد سے کفر و شرک کا اندھیرا کائنات سے مٹ گیا اور لوگوں کو ایک خدا کی معرفت حاصل ہوئی،رنگ و نسل کی تمیز ختم ہوئی اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہوا اور نسلوں سے جاری قتل و خون کا سلسلہ بند ہوا اور جہالت کے بادل چھٹ گئے اور نور کا سلسلہ جاری و ساری ہوا اس لئے مسلمان اس دن کو اپنی آزادی کا دن اور یوم رحمت سمجھ کر مانتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ اپنے رسول پاک ﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور دین بر حق کو قائم و دائم رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی مسلمان عید میلاد النبیﷺ کی تیاریاں کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔گھر گھر میلاد النبیﷺ کی محفلیں منعقد ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔مساجد،محلوں اور تعلیمی اداروں میں میلاد النبیﷺ کے جلسے منعقد کئے جاتے ہیں ۔اوردرود و سلام کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔

رسولﷺ کے دنیا میں قدم رکھتے ہی زمین والوں پر اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھل گئے،غنچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے افردہ کلیاں مسکرانے لگیں علم و آگہی کے سمندر جوش میں آ گئے خشک دریائوں میں طغیانی آ گئی عرب کی خزاں رسیدہ دھرتی پر موسم بہار کی حکومت ہو گئی۔تاریخ میں تھوڑا اختلاف ضرور ہے مگر مہینہ یہی ہے ،دن یہی ہے ساعتیں یہی ہیں جس میں صاحب قرآن پیدا ہوئے۔اس ماہ مکرم کا آپﷺ کی زندگی سے اور بھی تعلق تھا ۔مکہ سے مدینہ جس دن ہجرت فرمائی یہی دن تھا اسلام کی ابتدا اسی دن سے ہوئی اس ماہ مبارک میں غزوہ بنو نضیر ہوا اوراسی دن وصال مصطفی ہوا ۔ آپ ﷺ کی آمد سے نہ صرف عبداللہ کا آنگن جگمگایا بلکہ جہاں کہیں بھی مایوسیوں نے جھنڈے گاڑ دئیے تھے وہاں امید کی کرنیں روشنی پھیلانے لگیں ۔ اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا بلکہ قیامت تک آنے والی زحمت کا علاج بھی کر دیا۔آپﷺ کی ولادت با سعادت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے جس دن آپ ﷺ کی ولادت ہوئی قدسیوں نے آپﷺ کی تشریف آوری کے ترانے گائے۔مجبور و مہقور انسانوں نے کہا ان کا رکھوالا آ گیا ۔غلاموں نے کہا ان کا مولا آ گیا اور یتیموں نے کہا ان کا ولی آ گیا ،کلمہ نے کہا کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے والا آ گیا ،کعبے کو سجدے سے سجانے آ گیا ۔زمزم پکار اٹھا میرا وارث آ گیا ۔۔اہل علم نے کہا کہ ہمیں عنوان مل گیا کیونکہ جو اللہ کے رسولﷺ کاذکر بلند کرے گا اللہ اسکا ذکر بلند کرے گا۔

12 ربیع الاول کا دن ہمارے لئے بے پناہ خوشی کا دن ہے کہ اس دن ہمارے پیارے نبیﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔12 ربیع الاول کا دن باعث تخلیق کائنات رحمت عالم نور مجسم حضرت محمدﷺ کا جشنِ ولادت ہے اور آپ ﷺ کی آمد کی خوشی منانا ہر مسلمان پر لازم ہے اور عبادت کا درجہ رکھتا ہے پھر کیوں نہ ہم اس عبادت میں باہم شریک ہوں ۔خوشی کی ان انمول گھڑیوں میں ہمیں یہ بات ذہن سے نہیں نکالنی چاہیے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور حضور پاک ﷺ کی امت ہیں ہمیں آج سے آپﷺ کی سنہری تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرنا چاہیے۔کوئی بھی مسلمان اس وقت تک اچھا مسلمان ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر گامزن نہیں ہو گا۔اور آج کا دن ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم نئے سرے سے اپنے اعمال کا جائزہ لے کر محسن انسانیت حبیب کبریا سرور دوجہاں فخر مو جودات حضرت محمدمصطفیﷺ کے ارشادات کی روشنی میں اپنی آئندہ زندگی کا لائحہ عمل تیار کریں ۔ٍ12 ربیع الاول کے اس خوشی کے دن کو ہم دائمی خوشی میں تب ہی بدل سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ آپﷺ کے ارشادات مبارکہ کو اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھیں اور ہر پل ہر لمحہ ان پر کار بند رہنے کی کوشش کریں ۔یہ دنیا چار دن کی نشانی ہے اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت کی ہے پھر کیوں نہ ہم آخرت کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے لیئے ایک بہترین زاد راہ تیار کر لیں تاکہ ہم سفر کی صعوبتوں سے محفوظ رہ سکیں اور یہ زاد راہ اکھٹا کرنے کیلئے حضور پاک ﷺ نے واضع طور پر ہمارے لیئے نشاندہی کی ہے کہ دین اسلام پر کار بند رہ کر ہم یہ سب کچھ جمع کر سکتے ہیں ۔