سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

پیارے نبی

*بچوں كى جنسي تربيت*

بچوں کی جنسی تربیت کیسے کریں؟

ہم سب اس الجھن کا شکار ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینی چاہئے یا نہیں؟
اس موضوع پہ اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں.مگر ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے. یہ بات طے ہے کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سیکولر و لبرل طبقہ ہمارے بچوں کی اس معاملے میں جس قسم کی تربیت کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے وہ ہر باحیا مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے.
مگر یہ بھی ضروری ہے کہ نوعمر یا بلوغت کے قریب پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا جائے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا.
چند فیصد لبرل مسلمانوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں کے بزرگوں کی اکثریت آج کی نوجوان نسل میں بڑھتی بے راہ روی سے پریشان ہے. وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے *ان شاءاللّہ تعالی*ٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.

★ *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے. بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ *تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے*
جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں.

★ بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں.
تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.

★ *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے مت بیٹھنے دیں*
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

★ *بچوں کو فارغ مت رکھیں*
فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے.
اس لیے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.

★ ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی، گہری نیند سوئے.

★ *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں*
یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے.
اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.

★ بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ھی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.

★ *اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں*
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.

★ *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں*
حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
ان دو پوسچرز میں لیٹنےسے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.

★ *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں* تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.
اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

★ *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں*
یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے.

★ *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں* اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں.
بچوں کو عادی کریں کہ کسی کے پاس تنہائی میں نہ جائیں چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی اور نہ ہی کسی کو اپنے اعضائے مخصوصہ کو چھونے دیں.

★ *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں* تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.

★ *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں*
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے.
مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں.
کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے.
یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، بچے آپکے نہیں.
آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہیے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.

★ بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو. اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں.

★ *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں*
ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے.
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سر زنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں.
ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بے باکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے.

★ *تیرہ، چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں* یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں. کہ کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں اللّہ تعالی کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالی* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے

★ آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں *حرام* سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *ان شاءاللّہ تعالیٰ* آخرت میں *اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے *حلال* سے افطاری کریں گے.

*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی *حفظ و امان* میں رکھے.!!!

*آمین یارب*

پلیز آگے شیر کرے تاکہ ان اہم معلومات کا سب کو پتہ چل جاۓ.

شکریہ:

FacebookTwitterGoogle+Share

یوم تجدید:
12 ربیع الاول کو ہر سال ہم عید میلاد النبیﷺ مناتے ہیں ۔اس دن ہمارے پیارے نبیﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی تھی۔عید میلاد النبی کا دن بڑا ہی مبارک دن ہے اس دن آقا و غلام ،غریب و امیر کا فرق مٹانے والا ختم المرسلین نبی آخر الزمان دنیا میں تشریف لائے تھے جن کی آمد سے کفر و شرک کا اندھیرا کائنات سے مٹ گیا اور لوگوں کو ایک خدا کی معرفت حاصل ہوئی،رنگ و نسل کی تمیز ختم ہوئی اور ظلم و ستم کا خاتمہ ہوا اور نسلوں سے جاری قتل و خون کا سلسلہ بند ہوا اور جہالت کے بادل چھٹ گئے اور نور کا سلسلہ جاری و ساری ہوا اس لئے مسلمان اس دن کو اپنی آزادی کا دن اور یوم رحمت سمجھ کر مانتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ اپنے رسول پاک ﷺ کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور دین بر حق کو قائم و دائم رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی مسلمان عید میلاد النبیﷺ کی تیاریاں کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔گھر گھر میلاد النبیﷺ کی محفلیں منعقد ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔مساجد،محلوں اور تعلیمی اداروں میں میلاد النبیﷺ کے جلسے منعقد کئے جاتے ہیں ۔اوردرود و سلام کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔

رسولﷺ کے دنیا میں قدم رکھتے ہی زمین والوں پر اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھل گئے،غنچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے افردہ کلیاں مسکرانے لگیں علم و آگہی کے سمندر جوش میں آ گئے خشک دریائوں میں طغیانی آ گئی عرب کی خزاں رسیدہ دھرتی پر موسم بہار کی حکومت ہو گئی۔تاریخ میں تھوڑا اختلاف ضرور ہے مگر مہینہ یہی ہے ،دن یہی ہے ساعتیں یہی ہیں جس میں صاحب قرآن پیدا ہوئے۔اس ماہ مکرم کا آپﷺ کی زندگی سے اور بھی تعلق تھا ۔مکہ سے مدینہ جس دن ہجرت فرمائی یہی دن تھا اسلام کی ابتدا اسی دن سے ہوئی اس ماہ مبارک میں غزوہ بنو نضیر ہوا اوراسی دن وصال مصطفی ہوا ۔ آپ ﷺ کی آمد سے نہ صرف عبداللہ کا آنگن جگمگایا بلکہ جہاں کہیں بھی مایوسیوں نے جھنڈے گاڑ دئیے تھے وہاں امید کی کرنیں روشنی پھیلانے لگیں ۔ اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا بلکہ قیامت تک آنے والی زحمت کا علاج بھی کر دیا۔آپﷺ کی ولادت با سعادت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے جس دن آپ ﷺ کی ولادت ہوئی قدسیوں نے آپﷺ کی تشریف آوری کے ترانے گائے۔مجبور و مہقور انسانوں نے کہا ان کا رکھوالا آ گیا ۔غلاموں نے کہا ان کا مولا آ گیا اور یتیموں نے کہا ان کا ولی آ گیا ،کلمہ نے کہا کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے والا آ گیا ،کعبے کو سجدے سے سجانے آ گیا ۔زمزم پکار اٹھا میرا وارث آ گیا ۔۔اہل علم نے کہا کہ ہمیں عنوان مل گیا کیونکہ جو اللہ کے رسولﷺ کاذکر بلند کرے گا اللہ اسکا ذکر بلند کرے گا۔

12 ربیع الاول کا دن ہمارے لئے بے پناہ خوشی کا دن ہے کہ اس دن ہمارے پیارے نبیﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔12 ربیع الاول کا دن باعث تخلیق کائنات رحمت عالم نور مجسم حضرت محمدﷺ کا جشنِ ولادت ہے اور آپ ﷺ کی آمد کی خوشی منانا ہر مسلمان پر لازم ہے اور عبادت کا درجہ رکھتا ہے پھر کیوں نہ ہم اس عبادت میں باہم شریک ہوں ۔خوشی کی ان انمول گھڑیوں میں ہمیں یہ بات ذہن سے نہیں نکالنی چاہیے کہ ہم سب مسلمان ہیں اور حضور پاک ﷺ کی امت ہیں ہمیں آج سے آپﷺ کی سنہری تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرنا چاہیے۔کوئی بھی مسلمان اس وقت تک اچھا مسلمان ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر گامزن نہیں ہو گا۔اور آج کا دن ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم نئے سرے سے اپنے اعمال کا جائزہ لے کر محسن انسانیت حبیب کبریا سرور دوجہاں فخر مو جودات حضرت محمدمصطفیﷺ کے ارشادات کی روشنی میں اپنی آئندہ زندگی کا لائحہ عمل تیار کریں ۔ٍ12 ربیع الاول کے اس خوشی کے دن کو ہم دائمی خوشی میں تب ہی بدل سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ آپﷺ کے ارشادات مبارکہ کو اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھیں اور ہر پل ہر لمحہ ان پر کار بند رہنے کی کوشش کریں ۔یہ دنیا چار دن کی نشانی ہے اور ہمیشہ رہنے والی زندگی آخرت کی ہے پھر کیوں نہ ہم آخرت کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے لیئے ایک بہترین زاد راہ تیار کر لیں تاکہ ہم سفر کی صعوبتوں سے محفوظ رہ سکیں اور یہ زاد راہ اکھٹا کرنے کیلئے حضور پاک ﷺ نے واضع طور پر ہمارے لیئے نشاندہی کی ہے کہ دین اسلام پر کار بند رہ کر ہم یہ سب کچھ جمع کر سکتے ہیں ۔

Copyright © 2016. All Rights Reserved.