سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

علامہ اقبال

a12س۔بی۔اے میں علامہ اقبال ؓ کے کیا مضامین تھے؟؟
ج۔انگریزی ،فلسفہ اور عربی
س۔ایک رات میں علامہ اقبالؓ نے کم سے کم کتنے اشعار کہے؟؟
ج۔تین سو اشعار
س۔علامہ اقبال نے پہلی غزل کب کہی؟
ج۔1893 میں۔اور اس وقت وہ میڑک کا امتحان پاس کر چکے تھے۔
س۔علامہ اقبالؓ کے منشی کا کیا نام تھا؟
ج۔منشی طاہر الدین
س۔کب علامہ اقبال ؓ نے گورنمنٹ کالج کی ملازمت سے استعفی دیا؟؟
ج۔31 دسمبر 1910 ؁ء کو
س۔کیا علامہ اقبال دہلی سے لندن گئے تھے؟؟
ج۔جی نہیں!دہلی سے بمبئی آئے تھے اور بمبئی سے لندن گئے تھے۔
س۔علامہ اقبال نے یورپ کے دوران کتنے عرصے میں جرمن زبان سیکھ لی تھی؟
ج۔تین ماہ
س۔علامہ اقبالؓ نے سب سے پہلے کب اورکس جماعت کا پرچہ پنجاب یونیورسٹی کیلئے سیٹ کیا تھا؟؟
ج۔1900 ؁ء میں دسویں جماعت کا فارسی کا پرچہ

FacebookTwitterGoogle+Share
  1. Allama-Iqbal
  2. س۔علامہ اقبالؓ کا خاندان کب کشمیر سے ہجرت کر کے پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں آباد ہوا؟؟
    ج۔اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسوی صدی کے آغاز میں۔
    س۔علامہ اقبال کے والد کے چھوٹے بھائی کا نام بتائیے جو اپنے والد کے بارہویں بیٹے تھے؟
    ج۔غلام قادر
    س۔علامہ اقبالؓ کے آبائو اجداد جب کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے تو پہلے پہل کس محلے میں آباد ہوئے؟
    ج۔محلہ کھٹیکاں
    س۔علامہ اقبال ؓ کی والدہ کا نام بتائیں؟
    ج۔امام بی بی
    س۔علامہ اقبال کا نام محمد اقبال ؓ کس نے رکھا؟
    ج۔آپؓ کی والدہ محترمہ نے۔
    س۔علامہ اقبال کی تعلیم بتا دیجئے؟؟
    ج۔ایم ۔اے ،پی ایچ ڈی ،بیر سڑ ایٹ لا

وہ ایک چشمہ تھا جو اترا تھا کوہساروں سے
وہ اک شرر تھا جو پھوٹا تھا سنگپاروں سے
وہ اک دیا جو جلا شب نما سویروں میں
وہ اک کرن جو ہنسی منجمند اندھیروں میں
جناب صدر معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو!السلام علیکم!
آج مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا ہے اسکا عنوان ہے ’’اقبال کی تعلیم‘‘
عزیز ساتھیو!
علامہ اقبالؓ ایک انقلابی شاعر،عالمی شہرت کے فلسفی،عاشقِ رسولﷺ،مصور پاکستان ،با اصول سیاستدان اور ذہین ایڈووکیٹ کی حیثیت سے ہمارے سامنے ہیں ۔انھوں نے سیالکوٹ کے ایک محلے سے ایک چشمے کی صورت میں آغازکیا ،لاہور آئے تو علم کادریا بن چکے تھے۔برطانیہ اور جرمنی پہنچے تو حکمت و دانائی کے سمندر کی صورت میں دنیا کے سامنے آئے۔
آیا ہمارے دیس میں ایک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا
جناب صدر!
ڈاکٹرعلامہ اقبالؓ نے 1876؁ٰ؁ٰٗ؁ء میں سیالکوٹ میں جنم لیا میٹرک تک انہوں نے اپنے شہر میں ہی علم حاصل کیا یہاں انہیں علامہ میر حسن جیسے ذہین اور شفیق استاد کی رہنمائی میسر آئی۔جن سے انہوں نے آغاز سفر میں ہی فارسی اور عربی کے اسرار و رموز سے گہری آشنائی پیداکر لی۔میر حسن نے اپنے علم کی ساری تابندگی،ساری توانائی، سارے اسرار و رموز اپنے لائق فائق شاگرد کے دل و دماغ میں اتار دئیے۔شاگرد عزیز نے اپنی تمام تر توانائیوں ،توجہ اور توانائی سے استاد سے ملنے والی ہر چیز دماغ میں سمو لی اور لاہور چلے آئے۔یہاں جدوجہد کا وسیع میدان تھا آگے بڑھنے کے بڑے مواقع تھے۔شاعری شروع ہو گئی ،مشاعروں میں شرکت کا آغاز ہوا مگر نظر مقصد پر رہی توجہ ھدف سے ہٹی نہیں ۔
’’ملا ہے تیرے کلام کو ضرب قاہرانہ کا نام ورنہ
تیری ادائیں تھیں عاشقانہ تیرے ترانے تھے عارفانہ‘
علامہ اقبالؓ کی فلسفے میں دلچسپی بڑھتی گئی۔پروفیسر آرنلڈ کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی نے علامہ کے دل میں اعتماد و لگن کے کئی چراغ روشن کر دئیے ۔انہی کی رہنمائی نے علامہ اقبالؓ کو قابلِ ترین طلبا کی صف میں شامل کر دیا ۔اور بی۔اے میں یونیورسٹی میں دو سونے کے تمغے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ایم ۔اے کی ڈگری فلسفے میں اول پوزیشن میں حاصل کی مگر علم کے چشموں کی پیاس ابھی بجھی نہ تھی۔دیس کی سب چیزیں بھول کر انگلستان چلے گئے ۔کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی گہرائیوں سے مزید آشنائیوں کو جلو میں لے کر جرمنی چلے گئے۔میونخ یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے میں اپنا اعزاز سمجھا۔سیالکوٹ کے محلے چوڑی گراں سے علم کا چھوٹا سا چشمہ میونخ پہنچتے پہنچتے حکمت و دانائی کا بے کراں سمندر بن گیا۔علامہ اقبال ہندوستان کی آبرو مشرق کی عزت اور اسلام کا فخر تھے وہ انسانوں سے محبت کرنے والے ایسے مخلص انسان تھے جو انسانیت کو کبھی کبھی ملتے ہیں ۔علامہ اقبال کے پیغام کو عملی جامہ پہنا کر ہی ہم ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں ۔
والسلام
شکریہ

حضرت اقبال نے ہمیشہ ہی سے استادوں کی عزت اور توقیر کا خیال رکھا ہے اور ان کی خدمت کو سعادت سمجھا ۔آپ گورنمنٹ کالج لاہور سے سیالکوٹ چھٹیوں میں آئے تھے ۔ایک دن رحیما عطار کی دکان پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے کہ اپنے استاد محترم میر حسن پر نظرپڑی آپ حقہ کو وہیں چھوڑ کر بھاگ کر آداب بجا لائے اور پیچھے پیچھے چلنے لگے ،دکان سے جلدی بھاگنے میں ایک جوتی وہیں رہ گئی مگر واپس جانے کو مناسب نہ سمجھا اور یوں ننگے پائوں اپنے استادِ محترم کو گھر تک انکا سودا سلف اٹھائے چھوڑنے چلے گئے۔ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہآپ کی عظمت کا راز ان کے باادب اور سعادت مند ہونے میں تھا اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت نے انکے بڑا ہونے میں اہم رول ادا کیا۔
حرف آخرکے طور پر یہی کہاجاتا ہے کہ اقبال کا تعلق شاعروں کے اس گروہ سے ہے جو زندگی کو بناتے ہیں جو زندگی کو حرارت اور روشنی دیتے ہیں انکی شاعری کا مقصد بنی نوح انسان کی فلاح و بہبود ہے آپ نے حضرت انسان کو درس دیتے ہوئے فرمایا!
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

a12

علامہ اقبال خودی کی روشنی میں شاہین بچوں کو  اپنی پہچان سکھاتے ہیں ۔یہ شاہین بچے جو زمانے کی خرمستیوں میں پڑ کریہ بھول چکے ہیں کہ وہی کبھی ستاروں پر کمند ڈالتے رہے ہیں  اور کبھی اللہ کا دستِ قدرت رہے ہیں ۔کبھی رزم حق و باطل میں  فولادہوتے ہیں اور کبھی ان کی نگاہیں تقدیروں کو بدل دیتی ہیں ۔یہ کو ہِ بیاباں  سے گزریں ،دشت و  صحرا سے  یا بحرِ ظلمات سے  ان کے گھوڑے رکتے ہی نہیں تھے  بلکہ بڑھتے ہی جاتے تھے  کیونکہ یہ مردِ حق  پرست اور مومنِ کامل  ہیں  ان شاہین بچوں میں جب عقابی روح بیدار ہوتی ہے  جب یہ اپنی خودی کو پہچانتے ہیں  تو ان کو اپنی منزل آسمانوں پر نظر آتی ہے۔آپ کا کوئی شعر ایسا نہیں ہے  جس میں آپ کے دل کی دھڑکن نمایاں نہ ہو ۔آپ نے ایک آزاد وطن کا تصور پیش کیا  جسے قائداعظم نے عملی جامہ پہنایا۔ اور وہ خیال پاکستان ہمارے سامنے موجود ہے۔علامہ اقبال ایک عظیم شاعر ،عظیم مفکر ،سیاست دان ،وکیل اور ایک عظیم مسلمان تھے ۔آپ کے دل میں رسول خداﷺ  کا عشق تھا ۔جب بھی آپﷺ کا نام ان کی زبان پر آتا  تو وہ آب دیدہ ہو جاتے تھے۔

علامہ اقبال سیالکوٹ کے مقام پر پیدا ہوئے،ابتدائی تعلیم علامہ سیدمیر حسن سے حاصل کی بعد میں آپ جرمنی اور ولایت تشریف لے گئے وہاں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا ۔آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا وہ بڑے اللہ والے تھے ان کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ اقبال کہ دل میں اسلام کیلئے محبت پختہ ہو گئی ۔آپ لاہور میں دفن ہیں اورآپکا مزار شاہی مسجد کے پاس واقع ہے۔
آپ ایک عظیم شاعر تھے آپ سے پہلے شاعر اپنی شاعری کو محبوب کی نظر کر دیتے تھے ۔ان کی شاعری میں ایک ہی بات بار بار دہرائی جاتی تھی اور وہ تھی محبو ب کی تعریف۔اس بات سے نہ شاعری میں کوئی خوبی باقی رہتی تھی اور نہ کوئی اثر۔علامہ اقبال دل میں قوم کا درد رکھتے تھے ۔آپ سچے مسلمان تھے اور جب مسلمانوں کی گری ہوئی حالت کو دیکھتے تھے تو پریشان ہوتے تھے کہ وہ قوم جو تاریخ کی آبرو تھی آج اس قدر ذلیل خوار کیوں ہے۔یہی وہ خیال تھا جس نے آپ کے دل میں سوز ، تڑپ اور جوش پیدا کیا اور آپ نے شعر کے ذریعے اس سوز اور تڑپ کا اظہار کیا۔آپ کا کوئی شعر ایسا نہیں ہے جس میں آپ کے دل کی دھڑکن نمایاں نہ ہو ۔آپ نے ایک آزاد وطن کا تصور پیش کیا جسے قائداعظم نے عملی جامہ پہنایا۔ اور وہ خیال پاکستان ہمارے سامنے موجود ہے۔علامہ اقبال ایک عظیم شاعر ،عظیم مفکر ،سیاست دان ،وکیل اور ایک عظیم مسلمان تھے ۔آپ کے دل میں رسول خداﷺ کا عشق تھا ۔جب بھی آپﷺ کا نام ان کی زبان پر آتا تو وہ آب دیدہ ہو جاتے تھے۔

حضرت اقبال نے اپنی نظم ہی میں نہیں اپنی نثرمیں بھی عشقِ رسولﷺ پر بہت زور دیا ہے۔ آپ نے اپنی ایک تحریر میں فرمایا ۔عشقِ رسولﷺ دین بھی ہے اور وسیلہ دنیا بھی اسکے بغیر انسان نہ دین کا رہتا ہے اور نہ دنیا کا۔
حضرت اقبال نے عشقِ رسولﷺکو جو اسلام کی روح قرار دیا ہے یہ آواز انکے دل کی بھی تھی ،اور یہی فیصلہ انکے فلسفی دماغ کا بھی تھا آپنے اپنے ایک انگریزی خطبے میں فرمایا !’
پغمبر اسلام کی ذاتِ گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم اور جدید کے درمیان ایک واسطہ ہے ۔بہ اعتبار اسکی روح کے دنیا ئے جدید سے یہ آپ کا ہی وجودِ اقدس ہے کہ زندگی پر علم و حکمت کے تازہ چشمے منکشف ہوئے جو اس کے آئندہ رخ کے مطابق تھے۔حضرت اقبال نے اپنے خطبات میں ایک مقام پر رسول اللہﷺ اور دین اسلام کے تعلق کو بہت ہی خوبصورت اور واضع الفاظ میں بیان فرمایا ہے !
’’اسلام بحیثیت دین خدا کی طرف سے ظاہر ہوا لیکن بحیثیت سوسائٹی کہ رسول کریمﷺ کی شخصیت اقدس کا مرہونِ منت ہے ۔

علامہ اقبال کے خط سے یہ اقتباس پیش کیا جاتا ہے جو نثری اعتبار سے نعت رسولﷺ کی شاہکار مثال ہے’’اے عرب کی مقدس سر زمین تجھ کو مبارک ہو،تو ایک پتھر تھی جس کو دنیا کہ معماروں نے رد کر دیا تھا مگر ایک یتیم بچےﷺ نے خدا جانے تجھ پر کیا افسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کہ تہذیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی ہے۔ تیرے ریگستانوں نے ہزاروں مقدس قدم دیکھے ہیں اور تیری کجھوروں کے سائے نے ہزاروں رہروان حق کو تمازتِ آفتاب سے محفوظ رکھا ہے کاش میرے بدکار جسم کی خاک تیری ریت کے ذروں میں مل کر تیرے بیابانوں میں اڑتی پھرے اور یہی آوارگی میری زندگی کے تاریک دنوں کا کفارہ ہو۔کاش میں تیرے صحرائوں میں لٹ جائوں ۔ اور دنیا کہ تمام سامانوں سے آزاد ہو کر تیری تیز دھوپ میں چلتا ہوا اور پائوں کے آبلوں کی پرواہ نہ کرتا ہوا اس متبرک سر زمین میں جا پہنچوں جہاں کی گلیوں میں بلال کی عاشقانہ آواز گونجتی تھی۔
شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام                                                              
میرا قیام بھی حجاب تیرا سجود بھی حجاب                

حضرت اقبال نے ہمیشہ ہی سے استادوں کی عزت اور توقیر کا خیال رکھا ہے۔ اور انکی خدمت کو سعادت سمجھا ہے آپ گرنمنٹ کالج لاہور سے سیالکوٹ چھٹیوں میں آئے ہوئے تھے ۔ایک دن رحیما عطارکی دکان پر حقہ پی رہے تھے کہ اپنے استاد میر حسن پر نظر پڑ گئی حقہ کو وہیں چھوڑا اور بھاگ کر آداب بجا لائے اور پیچھے پیچھے چلنے لگے۔دکان سے جلدی بھاگنے میں ایک جوتی وہیں رہ گئی مگر واپس جانے کو مناسب نہ سمجھا اوریوں ننگے پائوں ہی اپنے استادِمحترم کو گھر تک انکا سودا سلف اٹھائے چھوڑنے چلے گئے۔
ان چند واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی عظمت کا راز انکے با ادب اور سعادت مند ہونے میں تھا اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت نے انکے بڑا ہونے میں اہم رول ادا کیا۔ اقبالکا تعلق شاعروں کے اس گرہ سے ہے جو زندگی کو بناتے ہیں اور زندگی کو حرارت اور روشنی دیتے ہیں انکی شاعری کا مقصد بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود ہے آپ نے حضرت انسان کو درس دیتے ہوئے فرمایا!
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدا یا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

شاعر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو غمِ دوراں اور غمِ جاناں کو خوبصورت الفاظ ،خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں کے ذریعے بیان کرتے ہیں دوسرے وہ جو انسانی زندگی بنیادی اور اساسی مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں ،حضرت اقبال کا شمار دوسری قسم کے شاعروں میں ہوتا ہے۔حضر ت اقبال کی فکر اور سوچ کی کئی جہتیں ہیں وہ شاعر ہونے کے علاوہ بہت بڑے مفکر اور سیاسی مدبر بھی تھے انکی عظیم فکر نے نہ صرف مشرق کو جگایا بلکہ بنی نوع انسان کو ایک نئے شعور اور نئی سوچ سے ہمکنار کیا۔حضرت اقبال کی سیاسی بصیرت اور غیر معمولی زہانت نے برصغیر کے مسلمانوںکو نہ صرف ایک وطن کا تصور دیا بلکہ وطن عزیز پاکستان کیلئے ایک واضع نصب العین کی نشاندہی کی ۔
حضرت اقبال نے اپنی ایک نظم جو فارسی زبان میں اسرار خودی میں موجود ہے بچپن کا ایک واقعہ لکھا ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ چھوٹے تھے تو ایک دن دروازے پر ایک فقیر آیا آپ نے اسے دھتکار دیا اور وہ گر گیا اور اسکی جھولی میں موجود تمام چیزیں زمین پر گر گئیں ۔ جونہی ان کے والد نے دیکھا تو وہ بے حد پریشان ہوئے اقبال سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا؟؟کیا یہ فقیر انسان نہیں ہے؟میں قیامت کے دن اپنے رب کو کیا منہ دکھائوں گا کہ میں ایک بچہ اور مسلمان بچہ کی تربیت نہ کر سکا۔اقبال لکھتے ہیں کہ اس واقعہ نے ان کے دل پربہت گہرا اثر کیا۔
ایک اور واقعہ اقبال بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ تلاوت کر رہے تھے تو ان کے والد نے آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا قرآن پاک کی تلاوت اسطرح کرو جیسے یہ تم پر نازل ہو رہا ہے۔جسکی وضاحت بعد میں آپ نے اپنی شاعری میں بھی فرمائی۔
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں قرآن

Copyright © 2016. All Rights Reserved.