سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

صفائی کے فوائد

جنابِ صدر ، محترم پرنسپل صاحب معززاساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم !
مجھے آج جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’ صفائی کے فوائد ‘‘
صدر مجلس !
صفائی کا مطلب صاف ستھرا رہناہے ۔ہمیں روحانی صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے ۔ہمارا جسم اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے اور ایک تندرست جسم صحت مند تب ہی رہ سکتا ہے جب تک اس کی مناسب صفائی کی جائے۔ اس لیے جسم کو صاف رکھنا بہت ضروری ہے ۔جہاں صفائی ہوتی ہے وہاں سے بیماریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں ۔مچھر اور دیگر جراثیم گندگی میں زیادہ پرورش پاتے ہیں جہاں گندگی نہیں ہوتی یہ جراثیم وہاں رہنا پسند نہیں کرتے ۔ظاہر ہے جب گندگی اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہی نہیں رہیں گے تو بیماریاں خودبخود بھاگ جائیں گی۔اس لیے صحت مند زندگی کے لیے صفائی بہت ضروری ہے ۔
؂ صفائی عجب چیز دنیا میں ہے
صفائی سے بہتر نہیں کوئی شے
صدرِ محترم !
ہمارا دینِ اسلام بھی ہمیں صاف ستھرا رہنے کی ہدایت دیتا ہے اور صفائی کو نصف ایمان قرار دیتاہے ۔صفائی اسلام کا بہترین عمل ہے ۔نماز جیسے بنیادی اسلامی رکن کی ادائیگی اس وقت تک ممکن نہیں ،جب تک ہمارا جسم ، لباس اور وہ جگہ جہاں نماز پڑھیں پاک صاف نہ ہو ۔صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غسل بہت ضروری عنصر ہے ۔یہ صفائی کا بنیادی عمل ہے ۔ اس لیے ہمیں غسل کا معمول بنا لینا چاہیے۔ اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی۔
؂صفائی کو رکھو ہمیشہ عزیز
صفائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز
صدر ذی وقار !
اپنی صفائی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی گلی اور محلے کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا ہے ۔جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ محلے میں جہاں کوڑا کرکٹ ہو گا وہاں مکھیاں آئیں گی اور ان مکھیوں سے بیماریاں پھیلے گی اور صحت متاثر ہوگی اس لیے مل جل کر محلے کی صفائی کا خا ص خیال رکھنا چاہیے ۔
اسلام میں تن کی صفائی کے سا تھ من کی صفائی پر بھی زور دیا گیا ہے ،ظاہری صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ہمارے دل سے حسد ،لالچ ،غرور اور تکبر کا نام و نشان مٹنا چاہیے۔اس طرح تن کی صفائی کے ساتھ من کی صفائی بھی ضروری ہے ۔
اگر من ہے میلا نہ تن کو سنوارو
والسّلام
شکریہ

FacebookTwitterGoogle+Share

معلومات
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دینِ فطرت ہے ۔اللہ تعالی نے اپنے اس دین کو تمام انسانوں ، خاص طور پر مسلمانوں کو تمام چھوٹی اور بڑی باتوں سے قرآن اور حدیث کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے ۔طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔ آج کے دور میں صفائی کا خیال کو رکھا جاتا ہے لیکن شرعی اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ،اگر شرعی اصولوں کے مطابق طہارت نہ ہو گی تو ہماری کوئی بھی عبادت قبول نہ ہوگی ۔طہارت میں دوچیزیں شامل ہیں ۔
وضو اور غسل
نماز سے پہلے وضو کرنا لازمی ہے بشرطیکہ جسم اور لباس پاک ہو اگر جسم اور لباس پاک نہیں تو وضوسے پہلے غسل کرنا اور لباس کو پاک کرنالازمی ہے۔ کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے ۔انسان صاف ستھرا رہتا ہے اور اس کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے ۔نہانے سے پورا جسم صاف ہو جا تا ہے اور اس طرح صفائی کے باعث بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ رہتا ہے ۔وضو کرنے اور نہانے سے ظاہری صفائی بھی حاصل ہوتی ہے اور روحانی بھی ۔عبادت اور کام کرنے میں لطف آتا ہے اس طرح عبادت بھی قبول ہوتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام کی آمد سے قبل جہاں عرب معاشرہ بے شمار سماجی اور اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا وہیں جسمانی اور ماحولیاتی گندگی بھی اس سماج کا ایک لازمی جزو تھی ۔ان کا رہن سہن اور طور طریقے کسی اصول کے پابند نہ تھے ۔وہ اپنے گھروں میں صفائی کو اہمیت نہ دیتے تھے ۔حضور ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھروں کوصاف رکھو اور یہودیوں کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔‘‘
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔جسم کے اعضاء کو صاف رکھنے اور صاف ستھرا لباس پہننے کا عمل طہارت کہلاتا ہے ۔جسم کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خیالات کو بھی پاکیزہ رکھا جائے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ خدا تعالی نے اسلام کی بنیاد پاکیزگی اور صفائی پر رکھی اور جنت میں وہی داخل ہو گا جو پاک و صاف ہو گا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
حضورﷺکی کھانے کے متعلق یہ عادت تھی کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے اور سیدھے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھانا نوش فرماتے ۔ اس سے حضورﷺ کی صفائی پسند طبیعت کا پتہ چلتا ہے ہمیں بھی کھانا کھانے سے پہلے ضرور ہاتھ دھونے چاہیں اور کھانے کو ہمیشہ طریقے سے کھانا چاہیے تا کہ ہمارے کھانے میں صفائی اور طریقے کا پہلو نظر آئے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جسمانی صفائی کے لیے ناخنو ں کی صفائی بھی ضروری ہے یہ ہمارے جسم کا اہم حصہ ہیں اور بڑھے ہو ئے ناخن ہماری شخصیت پر منفی اثر مرتب کرتے ہیں ۔ہمیں بھی سنت کے مطابق ناخن کاٹنے چاہیں تا کہ جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ سنت پر بھی عمل ہو اور ہمیں ثواب بھی ملے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جمعہ کے دن غسل کیا کرو اگرچہ پانی ایک دینا ر میں بکتا ہو۔‘‘ (میزان :۲۱۳۲)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غسل کا اہتمام کتنا ضروری ہے اگرچہ جمعہ کو اس کی فضیلت زیادہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمیشہ صاف ستھری عادات اپنائیں تاکی آپ صحت مند رہیں ۔ہمیشہ جب بھوک لگے تب کھائیں اور چند نوالے کم ہی کھائیں ۔اچھی صحت کے لیے گہری اور پر سکون نیند ضروری ہے۔ اپنے ماحول کو بھی صاف رکھیں تاکہ آپ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ ارشادِ بار ی تعالی ہے :
(  ۔)
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

لطائف
***************************
ایک بے وقوف کے پاس ریڈیو تھا ۔ایک دن وہ خراب ہو گیا تو وہ مستری کی دوکان پر لے گیا ۔مستر ی سے کہتا ہے کہ میرا ریڈیو خراب ہو گیا ہے ۔مستری جونہی اسے کھولتا ہے تو ریڈیو سے چوہا نکل گیا۔ اس بے وقوف نے مستری سے کہا میرا ریڈیو واپس کر۔ مستری نے کہا ٹھیک تو کرنے دو۔ بے وقوف نے کہا: اس میں جو گانے والا تھا وہ تو نکل گیا اب کیا فائدہ۔
***************************
ایک آدمی بلا ٹکٹ ٹرین میں سفر کر رہا تھا ۔ ٹکٹ چیکر جب بھی آتا وہ نماز پڑھنا شروع کر دیتا ۔تیسری بار جب ٹکٹ چیکر آیا تووہ مسافر کے پیچھے کھڑا ہو گیا جیسے ہی اس نے سلام کیا تو اس نے ٹکٹ چیکر کو دیکھا جب اس نے ٹکٹ کے بارے میں پوچھا تو وہ فورا بولا : نیت کرتا ہوں میں ہزار رکعت نماز کی ،’’ اللہ اکبر۔‘‘
***************************
ایک بچے کو جب بھا ئی چارے کا جملہ بنانے کو کہا گیا تو اس نے کچھ یوں بتا یا ،جب کسی سے پوچھوں کہ دودھ مہنگا کیوں بیچتے ہو تو وہ بولا کہ بھا ئی چارہ بہت مہنگا ہو گیا ہے ۔
***************************
تین حضرات ریلوے اسٹیشن پر کھڑے تھے ۔ تینوں آپس میں باتوں میں اس قدر محو تھے کہ اُن کو پتہ ہی نہ چلا کب ٹرین آگئی اور لوگ اس پر سوار ہو گئے۔جب ٹرین چلنے لگی تو تینوں کو ہوش آیا ۔تینوں ٹرین کے پیچھے بھاگے دو تو کسی نہ کسی طرح چڑھ گئے۔ایک صاحب رہ گئے۔وہ اداس اور خاموش سے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ایک قُلی ان کے پاس آیا اور بولا :
’’ صاحب! پریشان کیوں ہوتے ہیں ۔جہاں آپ نے جانا ہے ،دو گھنٹے بعدایک ٹرین آئے گی۔آپ اس پر چلے جانا۔‘‘
وہ صاحب سرد آہ بھر کر بولے !
’’میں تو کسی نہ کسی طرح چلا ہی جاؤں گا ،پر ان دونوں کا کیا کروں جو مجھے چھوڑنے آئے تھے۔‘‘
***************************
پاکستان اور پڑوسی دشمن کی فوجیں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹی ہوئی تھیں۔ کافی دن گزر گئے مگر فائر نہیں ہوا ۔پاکستانی فوجیوں نے سوچا مزہ نہیں آرہا ۔ کسی اور طریقے سے لڑائی کی جائے۔بہت دماغ لڑانے کے بعد ایک فوجی کے ذہن میں اچھی خاصی ترکیب آگئی۔اس نے سب کو اکٹھا کر کے کہا کہ ایسا کرتے ہیں آج دشمن کے نام لے لے کر مارتے ہیں ۔سب اس کی بات پر متفق ہو گئے ۔چنانچہ پاکستانی کمانڈر نے للکارا۔
’’ وریندر سنگھ کھڑا ہو جائے۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا تو ایک پاکستانی نے گولی چلا دی اور سے وہیں ڈھیر کر دیا ۔
’’ واجی پائی تائی سنگھ اسٹینڈاپ ۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا اور گولی چلا کر اسے گرا دیا گیا ۔
اگلے دن دشمن نے بھی یہی منصوبہ تیا ر کیا اور سوچا کہ چلو اللہ دتہ نام زیادہ ہوتا ہے ۔
چنانچہ انہوں نے للکارا !
’’ اللہ دتہ کھڑا ہو جائے ۔‘‘
اللہ دتہ کھڑا نہ ہوا بلکہ اس نے اپنی پوزیشن سے ہی آواز لگائی ۔
’’ مجھے کس نے پکا را ہے ؟‘‘
پکارنے والا کھڑا ہو گیا تو اللہ دتہ نے اس پر بھی گولی چلا دی۔
***************************