سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

bazem

6-September-Quotes-770x484speec3rdشکریہ

FacebookTwitterGoogle+Share
Indian-terrorism-Hindu-extremists-Genocide-of-Muslims-Kashmir-4
 تم ابھی زندہ ہو
1947
  کے ظلم وستم کی باتیں تو ہم نے بہت سنی ہے۔۔اور کہنے والے یہ بھی کہ دیتے ہیں۔ پاکستان  نہیں بننا چاہیے تھا۔ لیکن یہ واقع صرف 14سال پرانا ہے۔ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ یہ تحریر اردو  ڈائجسٹ میں شائع ہوئی تھی ۔اس کا ایک کہ حصہ پیش کیا جارہا ہے۔
پندرہ سال قبل گلبر گ سوسائٹی زندگی کی چہل پہل سے بھر پور آباد تھی۔ وہاںبچوں کی قلقاریاںگونجتی تھیں ۔ ننھے بچے سوسائٹی کے میدان میںکرکٹ کھیلتے نظر آتے ۔مائیںقریبی بازاروں سے سودا سلف لے آتیں۔غرض وہاں سب لوگ پیار محبت سے اپنی زندگیاں گزار رہے تھے ۔یہ سوسائٹی بھارتی ریا ست ،گجرات کے شہر احمد آباد میں واقع تھی۔اس سوسائٹی میں
متمول مسلمانوںنے گھر یا فلیٹ بنا رکھے تھے۔تاہم بعض غیر مسلم گھرانے بھی آباد تھے۔یہ سوسائٹی کانگرس کے مشہور رکن لوک سبھا ،احسان جعفری نے بنوائی تھی ۔وہ بھی مع اہل خانہ و ہیں مقیم تھے۔
   چو دہ سال قبل اچانک سوسائٹی میں آباد چالیس گھرانوں پر آفت ٹوٹ پڑی۔ ہوا یہ کہ ۲۷فروری ۰۰۲ ۲ کو ریاستی شہر ،گوادر میں سبر امتی ایکسپر یس نامی ریل کی چند بوگیاں پراسرار انداز
میں جل کر راکھ ہو گئیں ۔ان میں سنگھ پریوار [قوم پرست ہندو جماعتوں ]کے کارکن سوار تھے ۔ وہ بھی جل کر کوئلہ بن گئے ۔سنگھ پریوار نے دہائی مچادی کہ انکی بوگیوںکو گودھرا کے مسلمانوں نے ’’منصوبہ بندی‘‘سے آگ لگائی ہے ۔ وزیر اعلی نریندر مودی سمیت سنگھ پریوار کے تمام مسلمان مخالف لیڈ ر اشتعال انگیزتقریریں کرنے لگے جنہوں نے ہندووَں کے جذبات بھڑکا دیے۔چنانچہ۲۸ فروری پوری ریاست میں ہندووں کے مسلح جھتے مسلمانوں کے گھروں،دکانوں اور املاک پر حملے کرنے لگے۔ اس دن ہندو غنڈے حیوان بن گئے۔
انہوں نے نہتے بے بس مسلمانوں پر جو خوف ناک مظالم ڈھائے،ان کی بابت جان کر انسان ٹھرا اٹھتا ہے۔انتہائی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں کو وزیراعلی گجرات نریندر مودی کی مکمل حمایت اور شیرآبادحاصل تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں ریاست گجرات کے ڈھائی تین ہزار مسلمانوںکا لرزہ خیز قتل عام نریندر مودیکی قیادت میں انجام پایا۔اس امر کی گواہی کئی باضمیر ہندو بھی دے چکے۔
        ۲۸ فروری کی صبح ہندووں کے ایک جتھے نے گلبرگ سوسائٹی کا محاصرہ کرلیا۔احسان جعفری نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کی خاطر پولیس سے مدد مانگی ،ڈپٹی کمشنر کوفون کیے۔حتیٰ کہ وزیر اعلی سے بھی رابطہ کیا،مگر کوئی شنوائی نہ ہو ئی ۔واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ گلبرگ سوسائٹی کا محاصرہ ’’چھ گھنٹے‘‘ تک جاری رہااور پولیس محصورین کی مددکرنے نہ
پہنچ سکی ۔
  سہ پہر تک سوسائٹی کے باہر چار پانچ ہزار مسلح ہندو جمع ہو چکے تھے۔یہ ہندو ترشولوں،تلواروں ،بندوقوں ،چھروںاور مٹی کے تیل والوں ڈبوں سے لیس تھے۔جلد ہی انھوں نے اہل سوسائٹی پرہلہ بول دیا۔وہہر مسلمان کو پکڑتے ،چھروں سے ان کے اعضا کاٹتے اور ان پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دیتے ۔ احسان جعفری سمیت ۳۵ مسلمان مردو عورتیں اسی بے رحمانہ انداز میں شہید کر دئیے گئے ۔سو سائٹی کے ۳۱ مکینوں کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہوہ کہاں گئے۔یوںاس دن ہندوغنڈوں نے ہنستی بستی گلبرگ سوسائٹی کے مکینوں کو تبا ہ و برباد کر ڈالا۔سوسائٹی کے چند مکین خوش قسمتی سے اپنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔ ان میں احسان جعفری کی بیگم ذکیہ اور ایک پارسی خاتون ،روپا بہن مودی شامل تھیں ۔روپا بہن سوسائٹی
میںاپنے شوہر،سائرس،دس سالہ بیٹے اظہرمودی اور بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں۔ ۲۸ فروری کے ہنگامے  میںان کا بیٹا لاپتہ ہو گیااور پھر کبھی نہ مل سکا۔روپا بہن کی خون آلود داستان پر ایک
فلم’’پارزینہ ‘‘ بھی بن چکی ہے۔احسان جعفری نے مودی کو فون کیا تو مودی کہنے لگا کہ تم ابھی زندہ ہو۔۔۔

badal۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰بادل کیسے بنتے ھیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

سورج کی حرارت کی وجہ سے ندی، نالوں، دریاؤں، نہروں سے پانی بخارات بن کر اْڑ جاتا ہے پودوںکی سطح سے بھی پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے ۔ یہ بخارات ٹرانسپائریشن کا عمل کہلاتاہے۔ یہ بخارات ہوا میں شامل ہوجاتے ہیں لگاتارسورج کی حرارت کی وجہ سے گرم ہوا چلتی ہے، ہوا پھیلتی ہے اور ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا بخارات کو اپنے اندر اتنا جزب نہیں کر سکتی جتنا گرم ہو ا کرتی ہے، بخارات جب چھوٹے چھوٹے پانی کے قطروں کی شکل میں بھاپ بناتے ہیں تو بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جب پانی کے چھوٹے چھوٹے قطرے مزید ٹھنڈے ہو جاتے ہیں تو مل کر بڑے قطروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں یہ بڑے قطرے بارش یا برف کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ بارش کا پانی دوبارہ ندی نالوں، دریاؤں، نہرو ں یا زمین میں واپس آجاتاہے۔ نہروں، دریاؤؤں وغیرہ سے پانی سمندرمیں چلاجاتا ہے۔
ایک سکینڈ میں تقریبا 16))سولہ میلین ٹن پانی زمین سے بخارات بن کر اڑتا ہے۔بارش کی رفتار 8کلومیٹرسے10کلومیٹرفی گھنٹہ ہے، بادل تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ زمین سے اونچائی کی بنیاد پر بادل تین قسم کے ہوتے ہیں۔
( Low cloud) یہ پانی کے قطروں سے بنتے ہیں اورزمین سے 2000 میٹربلندہوتے ہیں۔ (Medium cloud) یہ بھی پانی کے قطروں سے بنتے ہیں لیکن یہ زمین سے دو ہزار (2000)سے (7000)میٹر بلند ہوتے ہیں۔ (High cloud ) عام طورپر برف کے ٹکڑوں سے مل کر بنتے ہیں، اور یہ زمین سے 5,500سے14000میٹربلند ہوتے ہیں، یہ بادل عموماً کالے رنگ کے ہوتے ہیں۔
صبح سویرے یارات کے وقت بخارات بھاپ کی شکل میں ہوا میں شامل ہوجاتے ہیںاورپھر زمین پرشبنم کی شکل میں آتے ہیں۔ سردیوں میں جب صبح کے وقت درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے توپانی کے قطرے جم جاتے ہیں اور دھند کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ٓٓ

251272-Tipu_Sultan_BL-1399195588-269-640x480

اطاعت والدین:
سلطان اپنے والدین کا تابع فرمان فرزند تھا۔ایک دفعہ نواب حیدر علی نے سلطان کو کوڑے سے پیٹا مگر باپ کی اطاعت و فرمانبر داری کی وجہ سے سلطان نے اُ ف تک نہ کی اور اپنی غلطی کی معافی مانگی۔اس طرح سلطان اپنی والدہ کا بھی بہت ہی زیادہ احترام کرتا تھااور بچوں کو والدین کے احترام کی تلقین کرتاتھا۔

251272-Tipu_Sultan_BL-1399195588-269-640x480رحم دلی:
سلطان بڑا رحم دل حاکم تھا۔ رعایا کا غم ان کوپر یشان کرتارہتا تھا۔اس نے جہاںاوربہت سے رفاہ عامہ کے کام شروع کئے وہاںان کا یہ رحمدلی کا واقعہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ:
’’ایک دفعہ سلطان جنگ کے دنوں میں ایک خیمہ میں رات کے وقت سو رہے تھے کہ باہر سے کسی آدمی کے کراہنے کی آوازآئی۔ سلطان اپنے خیمے سے باہر نکلا تو معلوم ہوا کہ ایک قیدی پیاس کی شدت سے کراہ رہاہے۔سلطان نے حود جا کر اُسے پانی پلایا اور خود اس وقت تک نہ سویا جب تک وہ قید ی نہ سو گیا۔سلطان ایک نہایت ہی نرم دل خُو اورغیر متعصب فرمانروااورصلح جوئی کا جیتا جاگتا مجسمہ تھا۔طبیعت میں منکسر المزاجی بہت زیادہ تھی۔

a12س۔بی۔اے میں علامہ اقبال ؓ کے کیا مضامین تھے؟؟
ج۔انگریزی ،فلسفہ اور عربی
س۔ایک رات میں علامہ اقبالؓ نے کم سے کم کتنے اشعار کہے؟؟
ج۔تین سو اشعار
س۔علامہ اقبال نے پہلی غزل کب کہی؟
ج۔1893 میں۔اور اس وقت وہ میڑک کا امتحان پاس کر چکے تھے۔
س۔علامہ اقبالؓ کے منشی کا کیا نام تھا؟
ج۔منشی طاہر الدین
س۔کب علامہ اقبال ؓ نے گورنمنٹ کالج کی ملازمت سے استعفی دیا؟؟
ج۔31 دسمبر 1910 ؁ء کو
س۔کیا علامہ اقبال دہلی سے لندن گئے تھے؟؟
ج۔جی نہیں!دہلی سے بمبئی آئے تھے اور بمبئی سے لندن گئے تھے۔
س۔علامہ اقبال نے یورپ کے دوران کتنے عرصے میں جرمن زبان سیکھ لی تھی؟
ج۔تین ماہ
س۔علامہ اقبالؓ نے سب سے پہلے کب اورکس جماعت کا پرچہ پنجاب یونیورسٹی کیلئے سیٹ کیا تھا؟؟
ج۔1900 ؁ء میں دسویں جماعت کا فارسی کا پرچہ

  1. Allama-Iqbal
  2. س۔علامہ اقبالؓ کا خاندان کب کشمیر سے ہجرت کر کے پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں آباد ہوا؟؟
    ج۔اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسوی صدی کے آغاز میں۔
    س۔علامہ اقبال کے والد کے چھوٹے بھائی کا نام بتائیے جو اپنے والد کے بارہویں بیٹے تھے؟
    ج۔غلام قادر
    س۔علامہ اقبالؓ کے آبائو اجداد جب کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے تو پہلے پہل کس محلے میں آباد ہوئے؟
    ج۔محلہ کھٹیکاں
    س۔علامہ اقبال ؓ کی والدہ کا نام بتائیں؟
    ج۔امام بی بی
    س۔علامہ اقبال کا نام محمد اقبال ؓ کس نے رکھا؟
    ج۔آپؓ کی والدہ محترمہ نے۔
    س۔علامہ اقبال کی تعلیم بتا دیجئے؟؟
    ج۔ایم ۔اے ،پی ایچ ڈی ،بیر سڑ ایٹ لا

وہ ایک چشمہ تھا جو اترا تھا کوہساروں سے
وہ اک شرر تھا جو پھوٹا تھا سنگپاروں سے
وہ اک دیا جو جلا شب نما سویروں میں
وہ اک کرن جو ہنسی منجمند اندھیروں میں
جناب صدر معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو!السلام علیکم!
آج مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا ہے اسکا عنوان ہے ’’اقبال کی تعلیم‘‘
عزیز ساتھیو!
علامہ اقبالؓ ایک انقلابی شاعر،عالمی شہرت کے فلسفی،عاشقِ رسولﷺ،مصور پاکستان ،با اصول سیاستدان اور ذہین ایڈووکیٹ کی حیثیت سے ہمارے سامنے ہیں ۔انھوں نے سیالکوٹ کے ایک محلے سے ایک چشمے کی صورت میں آغازکیا ،لاہور آئے تو علم کادریا بن چکے تھے۔برطانیہ اور جرمنی پہنچے تو حکمت و دانائی کے سمندر کی صورت میں دنیا کے سامنے آئے۔
آیا ہمارے دیس میں ایک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا
جناب صدر!
ڈاکٹرعلامہ اقبالؓ نے 1876؁ٰ؁ٰٗ؁ء میں سیالکوٹ میں جنم لیا میٹرک تک انہوں نے اپنے شہر میں ہی علم حاصل کیا یہاں انہیں علامہ میر حسن جیسے ذہین اور شفیق استاد کی رہنمائی میسر آئی۔جن سے انہوں نے آغاز سفر میں ہی فارسی اور عربی کے اسرار و رموز سے گہری آشنائی پیداکر لی۔میر حسن نے اپنے علم کی ساری تابندگی،ساری توانائی، سارے اسرار و رموز اپنے لائق فائق شاگرد کے دل و دماغ میں اتار دئیے۔شاگرد عزیز نے اپنی تمام تر توانائیوں ،توجہ اور توانائی سے استاد سے ملنے والی ہر چیز دماغ میں سمو لی اور لاہور چلے آئے۔یہاں جدوجہد کا وسیع میدان تھا آگے بڑھنے کے بڑے مواقع تھے۔شاعری شروع ہو گئی ،مشاعروں میں شرکت کا آغاز ہوا مگر نظر مقصد پر رہی توجہ ھدف سے ہٹی نہیں ۔
’’ملا ہے تیرے کلام کو ضرب قاہرانہ کا نام ورنہ
تیری ادائیں تھیں عاشقانہ تیرے ترانے تھے عارفانہ‘
علامہ اقبالؓ کی فلسفے میں دلچسپی بڑھتی گئی۔پروفیسر آرنلڈ کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی نے علامہ کے دل میں اعتماد و لگن کے کئی چراغ روشن کر دئیے ۔انہی کی رہنمائی نے علامہ اقبالؓ کو قابلِ ترین طلبا کی صف میں شامل کر دیا ۔اور بی۔اے میں یونیورسٹی میں دو سونے کے تمغے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ایم ۔اے کی ڈگری فلسفے میں اول پوزیشن میں حاصل کی مگر علم کے چشموں کی پیاس ابھی بجھی نہ تھی۔دیس کی سب چیزیں بھول کر انگلستان چلے گئے ۔کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی گہرائیوں سے مزید آشنائیوں کو جلو میں لے کر جرمنی چلے گئے۔میونخ یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے میں اپنا اعزاز سمجھا۔سیالکوٹ کے محلے چوڑی گراں سے علم کا چھوٹا سا چشمہ میونخ پہنچتے پہنچتے حکمت و دانائی کا بے کراں سمندر بن گیا۔علامہ اقبال ہندوستان کی آبرو مشرق کی عزت اور اسلام کا فخر تھے وہ انسانوں سے محبت کرنے والے ایسے مخلص انسان تھے جو انسانیت کو کبھی کبھی ملتے ہیں ۔علامہ اقبال کے پیغام کو عملی جامہ پہنا کر ہی ہم ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں ۔
والسلام
شکریہ

حضرت اقبال نے ہمیشہ ہی سے استادوں کی عزت اور توقیر کا خیال رکھا ہے اور ان کی خدمت کو سعادت سمجھا ۔آپ گورنمنٹ کالج لاہور سے سیالکوٹ چھٹیوں میں آئے تھے ۔ایک دن رحیما عطار کی دکان پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے کہ اپنے استاد محترم میر حسن پر نظرپڑی آپ حقہ کو وہیں چھوڑ کر بھاگ کر آداب بجا لائے اور پیچھے پیچھے چلنے لگے ،دکان سے جلدی بھاگنے میں ایک جوتی وہیں رہ گئی مگر واپس جانے کو مناسب نہ سمجھا اور یوں ننگے پائوں اپنے استادِ محترم کو گھر تک انکا سودا سلف اٹھائے چھوڑنے چلے گئے۔ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہآپ کی عظمت کا راز ان کے باادب اور سعادت مند ہونے میں تھا اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت نے انکے بڑا ہونے میں اہم رول ادا کیا۔
حرف آخرکے طور پر یہی کہاجاتا ہے کہ اقبال کا تعلق شاعروں کے اس گروہ سے ہے جو زندگی کو بناتے ہیں جو زندگی کو حرارت اور روشنی دیتے ہیں انکی شاعری کا مقصد بنی نوح انسان کی فلاح و بہبود ہے آپ نے حضرت انسان کو درس دیتے ہوئے فرمایا!
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

a12

علامہ اقبال خودی کی روشنی میں شاہین بچوں کو  اپنی پہچان سکھاتے ہیں ۔یہ شاہین بچے جو زمانے کی خرمستیوں میں پڑ کریہ بھول چکے ہیں کہ وہی کبھی ستاروں پر کمند ڈالتے رہے ہیں  اور کبھی اللہ کا دستِ قدرت رہے ہیں ۔کبھی رزم حق و باطل میں  فولادہوتے ہیں اور کبھی ان کی نگاہیں تقدیروں کو بدل دیتی ہیں ۔یہ کو ہِ بیاباں  سے گزریں ،دشت و  صحرا سے  یا بحرِ ظلمات سے  ان کے گھوڑے رکتے ہی نہیں تھے  بلکہ بڑھتے ہی جاتے تھے  کیونکہ یہ مردِ حق  پرست اور مومنِ کامل  ہیں  ان شاہین بچوں میں جب عقابی روح بیدار ہوتی ہے  جب یہ اپنی خودی کو پہچانتے ہیں  تو ان کو اپنی منزل آسمانوں پر نظر آتی ہے۔آپ کا کوئی شعر ایسا نہیں ہے  جس میں آپ کے دل کی دھڑکن نمایاں نہ ہو ۔آپ نے ایک آزاد وطن کا تصور پیش کیا  جسے قائداعظم نے عملی جامہ پہنایا۔ اور وہ خیال پاکستان ہمارے سامنے موجود ہے۔علامہ اقبال ایک عظیم شاعر ،عظیم مفکر ،سیاست دان ،وکیل اور ایک عظیم مسلمان تھے ۔آپ کے دل میں رسول خداﷺ  کا عشق تھا ۔جب بھی آپﷺ کا نام ان کی زبان پر آتا  تو وہ آب دیدہ ہو جاتے تھے۔