سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

وہ ایک چشمہ تھا جو اترا تھا کوہساروں سے
وہ اک شرر تھا جو پھوٹا تھا سنگپاروں سے
وہ اک دیا جو جلا شب نما سویروں میں
وہ اک کرن جو ہنسی منجمند اندھیروں میں
جناب صدر معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو!السلام علیکم!
آج مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کا موقع ملا ہے اسکا عنوان ہے ’’اقبال کی تعلیم‘‘
عزیز ساتھیو!
علامہ اقبالؓ ایک انقلابی شاعر،عالمی شہرت کے فلسفی،عاشقِ رسولﷺ،مصور پاکستان ،با اصول سیاستدان اور ذہین ایڈووکیٹ کی حیثیت سے ہمارے سامنے ہیں ۔انھوں نے سیالکوٹ کے ایک محلے سے ایک چشمے کی صورت میں آغازکیا ،لاہور آئے تو علم کادریا بن چکے تھے۔برطانیہ اور جرمنی پہنچے تو حکمت و دانائی کے سمندر کی صورت میں دنیا کے سامنے آئے۔
آیا ہمارے دیس میں ایک خوش نوا فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا
جناب صدر!
ڈاکٹرعلامہ اقبالؓ نے 1876؁ٰ؁ٰٗ؁ء میں سیالکوٹ میں جنم لیا میٹرک تک انہوں نے اپنے شہر میں ہی علم حاصل کیا یہاں انہیں علامہ میر حسن جیسے ذہین اور شفیق استاد کی رہنمائی میسر آئی۔جن سے انہوں نے آغاز سفر میں ہی فارسی اور عربی کے اسرار و رموز سے گہری آشنائی پیداکر لی۔میر حسن نے اپنے علم کی ساری تابندگی،ساری توانائی، سارے اسرار و رموز اپنے لائق فائق شاگرد کے دل و دماغ میں اتار دئیے۔شاگرد عزیز نے اپنی تمام تر توانائیوں ،توجہ اور توانائی سے استاد سے ملنے والی ہر چیز دماغ میں سمو لی اور لاہور چلے آئے۔یہاں جدوجہد کا وسیع میدان تھا آگے بڑھنے کے بڑے مواقع تھے۔شاعری شروع ہو گئی ،مشاعروں میں شرکت کا آغاز ہوا مگر نظر مقصد پر رہی توجہ ھدف سے ہٹی نہیں ۔
’’ملا ہے تیرے کلام کو ضرب قاہرانہ کا نام ورنہ
تیری ادائیں تھیں عاشقانہ تیرے ترانے تھے عارفانہ‘
علامہ اقبالؓ کی فلسفے میں دلچسپی بڑھتی گئی۔پروفیسر آرنلڈ کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی نے علامہ کے دل میں اعتماد و لگن کے کئی چراغ روشن کر دئیے ۔انہی کی رہنمائی نے علامہ اقبالؓ کو قابلِ ترین طلبا کی صف میں شامل کر دیا ۔اور بی۔اے میں یونیورسٹی میں دو سونے کے تمغے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ایم ۔اے کی ڈگری فلسفے میں اول پوزیشن میں حاصل کی مگر علم کے چشموں کی پیاس ابھی بجھی نہ تھی۔دیس کی سب چیزیں بھول کر انگلستان چلے گئے ۔کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفہ کی گہرائیوں سے مزید آشنائیوں کو جلو میں لے کر جرمنی چلے گئے۔میونخ یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے میں اپنا اعزاز سمجھا۔سیالکوٹ کے محلے چوڑی گراں سے علم کا چھوٹا سا چشمہ میونخ پہنچتے پہنچتے حکمت و دانائی کا بے کراں سمندر بن گیا۔علامہ اقبال ہندوستان کی آبرو مشرق کی عزت اور اسلام کا فخر تھے وہ انسانوں سے محبت کرنے والے ایسے مخلص انسان تھے جو انسانیت کو کبھی کبھی ملتے ہیں ۔علامہ اقبال کے پیغام کو عملی جامہ پہنا کر ہی ہم ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں ۔
والسلام
شکریہ

FacebookTwitterGoogle+Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *