سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد
بزم ادب

رسولﷺ کے دنیا میں قدم رکھتے ہی زمین والوں پر اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھل گئے،غنچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے افردہ کلیاں مسکرانے لگیں علم و آگہی کے سمندر جوش میں آ گئے خشک دریائوں میں طغیانی آ گئی عرب کی خزاں رسیدہ دھرتی پر موسم بہار کی حکومت ہو گئی۔تاریخ میں تھوڑا اختلاف ضرور ہے مگر مہینہ یہی ہے ،دن یہی ہے ساعتیں یہی ہیں جس میں صاحب قرآن پیدا ہوئے۔اس ماہ مکرم کا آپﷺ کی زندگی سے اور بھی تعلق تھا ۔مکہ سے مدینہ جس دن ہجرت فرمائی یہی دن تھا اسلام کی ابتدا اسی دن سے ہوئی اس ماہ مبارک میں غزوہ بنو نضیر ہوا اوراسی دن وصال مصطفی ہوا ۔ آپ ﷺ کی آمد سے نہ صرف عبداللہ کا آنگن جگمگایا بلکہ جہاں کہیں بھی مایوسیوں نے جھنڈے گاڑ دئیے تھے وہاں امید کی کرنیں روشنی پھیلانے لگیں ۔ اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا بلکہ قیامت تک آنے والی زحمت کا علاج بھی کر دیا۔آپﷺ کی ولادت با سعادت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے جس دن آپ ﷺ کی ولادت ہوئی قدسیوں نے آپﷺ کی تشریف آوری کے ترانے گائے۔مجبور و مہقور انسانوں نے کہا ان کا رکھوالا آ گیا ۔غلاموں نے کہا ان کا مولا آ گیا اور یتیموں نے کہا ان کا ولی آ گیا ،کلمہ نے کہا کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے والا آ گیا ،کعبے کو سجدے سے سجانے آ گیا ۔زمزم پکار اٹھا میرا وارث آ گیا ۔۔اہل علم نے کہا کہ ہمیں عنوان مل گیا کیونکہ جو اللہ کے رسولﷺ کاذکر بلند کرے گا اللہ اسکا ذکر بلند کرے گا۔

FacebookTwitterGoogle+Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2016. All Rights Reserved.