سکول ،کالج کے بچوں کے لئے ادبی مواد

بزم ادب

 علامہ اقبال کب پیدا ہوئے
جواب 9نومبر 1877
علامہ اقبال کب فوت ہوئے تاریخ
جواب 21 اپریل 1938
علامہ کے دو یورپی اساتزہ کے نام لکھیے
جواب 1اے بی براون 2سر ٹامس آرنلڈ
اقبال کی پہلی بیوی کا نام کیا تھا
جوب کریم بی بی
جاوید نامہ کا سال اشاعت کیا ہے
جواب 1932
بانگ درا کب شائع ہوئی
جواب 1924
بانگ درا کی پہلی نظم کا عنوان کیا ہے
جواب ہمالہ
علامہ اقبال کس ہندوستانی ریاست میں بغرض علاج گئے تھے
جواب دہلی
اقبال کس ریاست کے جج بننا چاہتے تھے
جواب حیدرآباد
اقبال کس ریاست کے مشیر تھے
جواب بہاولپور
کس مضمون میں ماسٹر کیا
جواب فلسفہ
علم الاقتصاد کب شائع ہوئی
جواب 1903
زبور عجم کب شائع ہوئی
جواب 1927
لیجیسلیٹو کونسل کی ممبر کب بنے
جواب 1926
ضرب کلیم کب شائع ہوئی
جواب 1936
اسرار خودی کب شائع ہوئی
جواب 1915
پیام مشرق کب شائع ہوئی کس زبان میں ہے
جواب 1922 فارسی
رموز بے خودی کب شائع ہوئی
جواب 1918
بال جبریل کب شائع ہوئی کس زبان میں ہے
جواب 1935 اردو
ارمغان حجاز کب شائع ہوئی
جواب 1938
اقبال کے والد کا نام کیا تھا
جواب شیخ نور محمد
اقبال نے کس ہونیورسٹی سے phd کی ڈگری لی
جواب میونخ یونیورسٹی
اقبال فلسطین کس وجہ سے گئے تھے
جواب موتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے
اقبال کے خطبات کس نام سے شائع ہوئے
جواب reconstruction of religious thoughts in iislam
زندہ رود کس کی کتاب ہے
جواب جاوید اقبال
نظم طلوع اسلام کس مجموعے میں شامل ہے
جواب بانگ درا
اقبال نے پیام مشرق کو کس کے نام کیا
جواب امیر امان اللہ فرمانروا افغانستان
اقبال کے دادا کا نام کیا تھا
جواب شیخ محمد رفیق
اقبال کی والدہ کا نام کیا تھا
جواب امام بی بی
اقبال کی آخری نظم کون سی تھی
جواب حضرت انسان
ان پڑھ فلسفی کسے کہا جاتا تھا
جواب شیخ نور محمد
اقبال اور فیض کے مشترک استاد کون تھے
جواب میر حسن
شاعری میں اقبال کے استاد کون تھے
جواب مرزا داغ دہلوی
اقبال کو سر عبدالقادرنے کس شاعر کا دوسرا جنم قرار دیا
جواب غالب
اقبال لندن کتنی مرتبہ تشریف لے گئے تھے
جواب 2
اقبال نے ہسپانیہ میں کون سی طویل نظم لکھی تھی
جواب مسجد قرطبہ
اقبال کے بڑے بیٹے کا نام کیا تھا
جواب آفتاب اقبال
یورپ جانے سے پہلے کس بزرگ کے دربار پر حاضری دی

جواب نظام الدین اولیا
کس بزرگ شاعر کو اقبالنے تنقید کا نشانہ بنایا
جواب حافظ شیرازی
اقبال نے کس کو مجذوب فرنگی کہا
جواب نطشے
بانگ درا میں اقبال نے کس صحابی کا زکرکیا
جواب حضرت ابو بکر صدیق
اقبال نے کس مغل بادشاہ کو اسلامی ترکش کا آخری تیر کہا
جواب بہادر شاہ ظفر
اقبال کامرشد کون تھا
جواب مولانا رومی
,اقبال نے کس کتاب کو ڈیوئن کامیڈی کہا
جواب جاوید نامہ
اقبال کو حکیم حیات کا لقب کس نے دیا
جواب گوئٹے
مثنوی مسافر کس سفر کی یادگار ہے
جواب افغانستان
اقبال نے کس بادشاہ کی اقتدا میں نماز پڑھی
جواب امیر امان اللہ خان
نظم طلوع اسلام کس اسلامی ملک کی جنگی فتوحات کے پس منظر میں لکھی گئی
جواب ترک عثمانیہ
مسجد قرطبہ کس دریا کے کنارے واقع ہے
جواب دریائے کبیر
اقبال نے مسجد قرطبہ میں کون سی نظم لکھی
جواب دعا

FacebookTwitterGoogle+Share

 معلومات
جب اللہ تعالی نے انسان کو زمین کو پر اتارا تو ابتداء سے ہی اس کو بے شمار مسائل نے گھیر لیا۔پہلے تو انسان نے تکالیف کا مقابلہ کیا لیکن پھر آہستہ آہستہ اپنی عقل سے کام لے کر مسائل کو حل کرنا شروع کیا۔ انسان کا سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ خوراک کا تھا جس کا حل اس نے بہت جلد تلاش کر لیا ۔پھر موسموں کی شدت سے بچنے کا سوال پیدا ہوااس نے غاروں کو گھر اور درختوں کے پتوں کو لپیٹ کر جسم کی حفاظت اور دشمن سے بچاؤکے لیے پتھروں کو ہتھیار بنا لیا۔انسان کی سب سے بڑی کامیابی پہیے کی ایجاد تھی۔ہزاروں سال پہلے لکڑی کا پہیہ ایجاد کر کے سفر کا آغاز کیا گیا۔ آج لوہے کا پہیہ ایجاد کر لیا گیا ہیاور ریل جیسی تیز رفتار گاڑی کو سفر کا وسیلہ بنایا گیا ۔یہ پہیہ ہی ہے جس کی وجہ سے فاصلے سمٹ آئے اور سفر آسان ہو گیا ہے۔سائنس کی سب سے بڑی دریافت بجلی ہے ۔بجلی کی دریافت نے ہماری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔بجلی کے ذریعے انسان نے بے شمار عیش و آرام حاصل کیا ہے۔ گرمیوں میں گرمی سے بچنے کے لیے بجلی کے پنکھے ،روم کولر ،ائیر کنڈیشنزاور سردی میں ٹھنڈکسے بچنے کے لیے ہیٹر بنائے گئے ۔بجلی نے انسان کی بہت زیادہ مددکی ہے بجلی نے سائنسی ترقی میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
معلومات
سائنس نے حیرت انگیز طور پر بے حد ترقی ہے۔ آج سائنس کی بدولت بیماروں کو شفا، اندھوں کیلئے آنکھیں اور بہت سے امراض کیلئے حیرت انگیز علاج دریافت ہوچکے ہیں ۔سائنس کی بدولت فن طب میں بے حد ترقی ہوئی جس کی وجہ سے شرح اموات میں پہلے کی نسبت بہت حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔آبادی کے اضافے اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظربجلی کی توانائی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔سائنس کی ایک اور ایجاد بلکہ شاندار ایجاد ’’ہوائی جہاز‘‘ ہے ۔ اس کے ذریعے انسان نے فضاؤں کی وسعتوں پر قابو پا لیا ہے اور دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا ہے ،اب تو تیز رفتار طیارے بن ر ہیں ۔راکٹ تیار کر کے انسان چاند پر جا پہنچا ہے ۔چاند جو انسان کی پہنچ سے بہت دور تھا راکٹ کے ذریعے انسان نے اس کو زیر کر لیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب انسان چاند پر آباد نظر آئے گا۔سائنس کی بدولت آج انسان نے زمین کا سینہ چیر کر قیمتی معدنیات حاصل کی ہیں ۔ عرب کے ریگستان میں جہاں ہر طرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے وہاں سائنسی تحقیق کی بدولت سائنس دانوں نے تیل کے بے شمار کنوئیں دریافت کئے ہیں جن کی بدولت آج عرب دنیا تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ اس کے علاوہ لوہا،کوئلہ،نمک ،سونا ،چاندی جیسی معدنیات بھی انسان نے صرف سائنسی تعلیم کی بدولت حاصل کی ہیں ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
معلومات
سائنس کی ایک اور بلکہ شاندار ایجاد ’’ہوائی جہاز‘‘ ہے۔اس کے ذریعے انسان نے فضاؤں کی وستعوں کو ماپ لیا ہے اور دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو نے لگا ہے اب تو تیز رفتار طیار ے بن رہے ہیں ۔راکٹ تیار کر کے انسان چاندپر جا پہنچا ہے۔چاند جو انسان کی پہنچ سے بہت دور تھا راکٹ کے ذریعے انسان نے اس کو زیر کرلیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب انسان چاند پر آباد نظر آئے گا ۔سائنس کی بدولت آج انسان نے زمین کا سینہ چیر کر قیمتی معدنیات حاصل کی ہیں ۔عرب کے ریگستان میں جہاں ہر طرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی ہے وہاں سائنسی تحقیق کی بدولت سائنس دانوں نے تیل کے بے شمار کنوئیں دریافت کیے ہیں جن کی بدولت آج عرب دنیا تیل کی دولت سے مالا مال ہے ۔اس کے علاوہ لوہا،کوئلہ ، نمک ،سونا اور چاندی جیسی معدنیات بھی انسان نے صرف سائنسی تعلیم کی بدولت حاصل کی ہیں ۔

ایک صاحب حجام کی دوکان پر بال کٹوانے گئے۔جب بال کٹوانے کے لئے بیٹھے تو حجام نے پو چھا بال کیسے کٹوانے ہیں؟
وہ صاحب بولے ، خاموشی سے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
فقیر (لڑکے سے )ایک روپے کا سوال ہے بابا
لڑکا بابا سوال اس طرح حل نہیں ہوتے،کاپی پہ لکھ کر دو۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

استاد (شاگرد سے)ادریس بتاؤ کہ آنے والے کی کیاا نگریزی ہے ؛ٹو مارو
ادریس ؛استاد
شاباش اور پرسوں کی
ادریس ؛تھری مارو
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جج چور سے ،تم دکان کے تالے کیوں کھول رہے تھے ؟
چور ،جناب مجھے گری ہوئی چابی ملی۔میں اس کو لگا کر دیکھ رہا تھا کہ کونسی دوکان کی ہے تاکہ اسے واپس کر دوں

جنابِ صدر ، محترم پرنسپل صاحب معززاساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم !
مجھے آج جس موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’ صفائی کے فوائد ‘‘
صدر مجلس !
صفائی کا مطلب صاف ستھرا رہناہے ۔ہمیں روحانی صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے ۔ہمارا جسم اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے اور ایک تندرست جسم صحت مند تب ہی رہ سکتا ہے جب تک اس کی مناسب صفائی کی جائے۔ اس لیے جسم کو صاف رکھنا بہت ضروری ہے ۔جہاں صفائی ہوتی ہے وہاں سے بیماریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں ۔مچھر اور دیگر جراثیم گندگی میں زیادہ پرورش پاتے ہیں جہاں گندگی نہیں ہوتی یہ جراثیم وہاں رہنا پسند نہیں کرتے ۔ظاہر ہے جب گندگی اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہی نہیں رہیں گے تو بیماریاں خودبخود بھاگ جائیں گی۔اس لیے صحت مند زندگی کے لیے صفائی بہت ضروری ہے ۔
؂ صفائی عجب چیز دنیا میں ہے
صفائی سے بہتر نہیں کوئی شے
صدرِ محترم !
ہمارا دینِ اسلام بھی ہمیں صاف ستھرا رہنے کی ہدایت دیتا ہے اور صفائی کو نصف ایمان قرار دیتاہے ۔صفائی اسلام کا بہترین عمل ہے ۔نماز جیسے بنیادی اسلامی رکن کی ادائیگی اس وقت تک ممکن نہیں ،جب تک ہمارا جسم ، لباس اور وہ جگہ جہاں نماز پڑھیں پاک صاف نہ ہو ۔صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غسل بہت ضروری عنصر ہے ۔یہ صفائی کا بنیادی عمل ہے ۔ اس لیے ہمیں غسل کا معمول بنا لینا چاہیے۔ اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی۔
؂صفائی کو رکھو ہمیشہ عزیز
صفائی سے بڑھ کر نہیں کوئی چیز
صدر ذی وقار !
اپنی صفائی کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی گلی اور محلے کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا ہے ۔جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ محلے میں جہاں کوڑا کرکٹ ہو گا وہاں مکھیاں آئیں گی اور ان مکھیوں سے بیماریاں پھیلے گی اور صحت متاثر ہوگی اس لیے مل جل کر محلے کی صفائی کا خا ص خیال رکھنا چاہیے ۔
اسلام میں تن کی صفائی کے سا تھ من کی صفائی پر بھی زور دیا گیا ہے ،ظاہری صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ہمارے دل سے حسد ،لالچ ،غرور اور تکبر کا نام و نشان مٹنا چاہیے۔اس طرح تن کی صفائی کے ساتھ من کی صفائی بھی ضروری ہے ۔
اگر من ہے میلا نہ تن کو سنوارو
والسّلام
شکریہ

معلومات
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دینِ فطرت ہے ۔اللہ تعالی نے اپنے اس دین کو تمام انسانوں ، خاص طور پر مسلمانوں کو تمام چھوٹی اور بڑی باتوں سے قرآن اور حدیث کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے ۔طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔ آج کے دور میں صفائی کا خیال کو رکھا جاتا ہے لیکن شرعی اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ،اگر شرعی اصولوں کے مطابق طہارت نہ ہو گی تو ہماری کوئی بھی عبادت قبول نہ ہوگی ۔طہارت میں دوچیزیں شامل ہیں ۔
وضو اور غسل
نماز سے پہلے وضو کرنا لازمی ہے بشرطیکہ جسم اور لباس پاک ہو اگر جسم اور لباس پاک نہیں تو وضوسے پہلے غسل کرنا اور لباس کو پاک کرنالازمی ہے۔ کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہر نماز سے پہلے وضو کرنے سے ذہنی اور جسمانی سکون ملتا ہے ۔انسان صاف ستھرا رہتا ہے اور اس کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے ۔نہانے سے پورا جسم صاف ہو جا تا ہے اور اس طرح صفائی کے باعث بیماریوں سے کافی حد تک محفوظ رہتا ہے ۔وضو کرنے اور نہانے سے ظاہری صفائی بھی حاصل ہوتی ہے اور روحانی بھی ۔عبادت اور کام کرنے میں لطف آتا ہے اس طرح عبادت بھی قبول ہوتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسلام کی آمد سے قبل جہاں عرب معاشرہ بے شمار سماجی اور اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا وہیں جسمانی اور ماحولیاتی گندگی بھی اس سماج کا ایک لازمی جزو تھی ۔ان کا رہن سہن اور طور طریقے کسی اصول کے پابند نہ تھے ۔وہ اپنے گھروں میں صفائی کو اہمیت نہ دیتے تھے ۔حضور ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھروں کوصاف رکھو اور یہودیوں کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔‘‘
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
طہارت کے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔جسم کے اعضاء کو صاف رکھنے اور صاف ستھرا لباس پہننے کا عمل طہارت کہلاتا ہے ۔جسم کو صاف ستھرا رکھنے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خیالات کو بھی پاکیزہ رکھا جائے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ خدا تعالی نے اسلام کی بنیاد پاکیزگی اور صفائی پر رکھی اور جنت میں وہی داخل ہو گا جو پاک و صاف ہو گا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
حضورﷺکی کھانے کے متعلق یہ عادت تھی کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے اور سیدھے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھانا نوش فرماتے ۔ اس سے حضورﷺ کی صفائی پسند طبیعت کا پتہ چلتا ہے ہمیں بھی کھانا کھانے سے پہلے ضرور ہاتھ دھونے چاہیں اور کھانے کو ہمیشہ طریقے سے کھانا چاہیے تا کہ ہمارے کھانے میں صفائی اور طریقے کا پہلو نظر آئے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جسمانی صفائی کے لیے ناخنو ں کی صفائی بھی ضروری ہے یہ ہمارے جسم کا اہم حصہ ہیں اور بڑھے ہو ئے ناخن ہماری شخصیت پر منفی اثر مرتب کرتے ہیں ۔ہمیں بھی سنت کے مطابق ناخن کاٹنے چاہیں تا کہ جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ سنت پر بھی عمل ہو اور ہمیں ثواب بھی ملے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جمعہ کے دن غسل کیا کرو اگرچہ پانی ایک دینا ر میں بکتا ہو۔‘‘ (میزان :۲۱۳۲)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غسل کا اہتمام کتنا ضروری ہے اگرچہ جمعہ کو اس کی فضیلت زیادہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمیشہ صاف ستھری عادات اپنائیں تاکی آپ صحت مند رہیں ۔ہمیشہ جب بھوک لگے تب کھائیں اور چند نوالے کم ہی کھائیں ۔اچھی صحت کے لیے گہری اور پر سکون نیند ضروری ہے۔ اپنے ماحول کو بھی صاف رکھیں تاکہ آپ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ ارشادِ بار ی تعالی ہے :
(  ۔)
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

لطائف
***************************
ایک بے وقوف کے پاس ریڈیو تھا ۔ایک دن وہ خراب ہو گیا تو وہ مستری کی دوکان پر لے گیا ۔مستر ی سے کہتا ہے کہ میرا ریڈیو خراب ہو گیا ہے ۔مستری جونہی اسے کھولتا ہے تو ریڈیو سے چوہا نکل گیا۔ اس بے وقوف نے مستری سے کہا میرا ریڈیو واپس کر۔ مستری نے کہا ٹھیک تو کرنے دو۔ بے وقوف نے کہا: اس میں جو گانے والا تھا وہ تو نکل گیا اب کیا فائدہ۔
***************************
ایک آدمی بلا ٹکٹ ٹرین میں سفر کر رہا تھا ۔ ٹکٹ چیکر جب بھی آتا وہ نماز پڑھنا شروع کر دیتا ۔تیسری بار جب ٹکٹ چیکر آیا تووہ مسافر کے پیچھے کھڑا ہو گیا جیسے ہی اس نے سلام کیا تو اس نے ٹکٹ چیکر کو دیکھا جب اس نے ٹکٹ کے بارے میں پوچھا تو وہ فورا بولا : نیت کرتا ہوں میں ہزار رکعت نماز کی ،’’ اللہ اکبر۔‘‘
***************************
ایک بچے کو جب بھا ئی چارے کا جملہ بنانے کو کہا گیا تو اس نے کچھ یوں بتا یا ،جب کسی سے پوچھوں کہ دودھ مہنگا کیوں بیچتے ہو تو وہ بولا کہ بھا ئی چارہ بہت مہنگا ہو گیا ہے ۔
***************************
تین حضرات ریلوے اسٹیشن پر کھڑے تھے ۔ تینوں آپس میں باتوں میں اس قدر محو تھے کہ اُن کو پتہ ہی نہ چلا کب ٹرین آگئی اور لوگ اس پر سوار ہو گئے۔جب ٹرین چلنے لگی تو تینوں کو ہوش آیا ۔تینوں ٹرین کے پیچھے بھاگے دو تو کسی نہ کسی طرح چڑھ گئے۔ایک صاحب رہ گئے۔وہ اداس اور خاموش سے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ایک قُلی ان کے پاس آیا اور بولا :
’’ صاحب! پریشان کیوں ہوتے ہیں ۔جہاں آپ نے جانا ہے ،دو گھنٹے بعدایک ٹرین آئے گی۔آپ اس پر چلے جانا۔‘‘
وہ صاحب سرد آہ بھر کر بولے !
’’میں تو کسی نہ کسی طرح چلا ہی جاؤں گا ،پر ان دونوں کا کیا کروں جو مجھے چھوڑنے آئے تھے۔‘‘
***************************
پاکستان اور پڑوسی دشمن کی فوجیں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹی ہوئی تھیں۔ کافی دن گزر گئے مگر فائر نہیں ہوا ۔پاکستانی فوجیوں نے سوچا مزہ نہیں آرہا ۔ کسی اور طریقے سے لڑائی کی جائے۔بہت دماغ لڑانے کے بعد ایک فوجی کے ذہن میں اچھی خاصی ترکیب آگئی۔اس نے سب کو اکٹھا کر کے کہا کہ ایسا کرتے ہیں آج دشمن کے نام لے لے کر مارتے ہیں ۔سب اس کی بات پر متفق ہو گئے ۔چنانچہ پاکستانی کمانڈر نے للکارا۔
’’ وریندر سنگھ کھڑا ہو جائے۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا تو ایک پاکستانی نے گولی چلا دی اور سے وہیں ڈھیر کر دیا ۔
’’ واجی پائی تائی سنگھ اسٹینڈاپ ۔‘‘
وہ کھڑا ہو گیا اور گولی چلا کر اسے گرا دیا گیا ۔
اگلے دن دشمن نے بھی یہی منصوبہ تیا ر کیا اور سوچا کہ چلو اللہ دتہ نام زیادہ ہوتا ہے ۔
چنانچہ انہوں نے للکارا !
’’ اللہ دتہ کھڑا ہو جائے ۔‘‘
اللہ دتہ کھڑا نہ ہوا بلکہ اس نے اپنی پوزیشن سے ہی آواز لگائی ۔
’’ مجھے کس نے پکا را ہے ؟‘‘
پکارنے والا کھڑا ہو گیا تو اللہ دتہ نے اس پر بھی گولی چلا دی۔
***************************

*بچوں كى جنسي تربيت*

بچوں کی جنسی تربیت کیسے کریں؟

ہم سب اس الجھن کا شکار ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینی چاہئے یا نہیں؟
اس موضوع پہ اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں.مگر ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے. یہ بات طے ہے کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سیکولر و لبرل طبقہ ہمارے بچوں کی اس معاملے میں جس قسم کی تربیت کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے وہ ہر باحیا مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے.
مگر یہ بھی ضروری ہے کہ نوعمر یا بلوغت کے قریب پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا جائے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا.
چند فیصد لبرل مسلمانوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں کے بزرگوں کی اکثریت آج کی نوجوان نسل میں بڑھتی بے راہ روی سے پریشان ہے. وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے *ان شاءاللّہ تعالی*ٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.

★ *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے. بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ *تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے*
جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں.

★ بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں.
تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.

★ *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے مت بیٹھنے دیں*
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

★ *بچوں کو فارغ مت رکھیں*
فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے.
اس لیے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.

★ ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی، گہری نیند سوئے.

★ *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں*
یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے.
اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.

★ بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ھی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.

★ *اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں*
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.

★ *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں*
حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
ان دو پوسچرز میں لیٹنےسے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.

★ *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں* تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.
اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

★ *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں*
یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے.

★ *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں* اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں.
بچوں کو عادی کریں کہ کسی کے پاس تنہائی میں نہ جائیں چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی اور نہ ہی کسی کو اپنے اعضائے مخصوصہ کو چھونے دیں.

★ *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں* تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.

★ *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں*
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے.
مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں.
کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے.
یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، بچے آپکے نہیں.
آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہیے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.

★ بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو. اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں.

★ *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں*
ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے.
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سر زنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں.
ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بے باکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے.

★ *تیرہ، چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں* یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں. کہ کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں اللّہ تعالی کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالی* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے

★ آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں *حرام* سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *ان شاءاللّہ تعالیٰ* آخرت میں *اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے *حلال* سے افطاری کریں گے.

*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی *حفظ و امان* میں رکھے.!!!

*آمین یارب*

پلیز آگے شیر کرے تاکہ ان اہم معلومات کا سب کو پتہ چل جاۓ.

شکریہ:

Indian-terrorism-Hindu-extremists-Genocide-of-Muslims-Kashmir-4
 تم ابھی زندہ ہو
1947
  کے ظلم وستم کی باتیں تو ہم نے بہت سنی ہے۔۔اور کہنے والے یہ بھی کہ دیتے ہیں۔ پاکستان  نہیں بننا چاہیے تھا۔ لیکن یہ واقع صرف 14سال پرانا ہے۔ہم سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ یہ تحریر اردو  ڈائجسٹ میں شائع ہوئی تھی ۔اس کا ایک کہ حصہ پیش کیا جارہا ہے۔
پندرہ سال قبل گلبر گ سوسائٹی زندگی کی چہل پہل سے بھر پور آباد تھی۔ وہاںبچوں کی قلقاریاںگونجتی تھیں ۔ ننھے بچے سوسائٹی کے میدان میںکرکٹ کھیلتے نظر آتے ۔مائیںقریبی بازاروں سے سودا سلف لے آتیں۔غرض وہاں سب لوگ پیار محبت سے اپنی زندگیاں گزار رہے تھے ۔یہ سوسائٹی بھارتی ریا ست ،گجرات کے شہر احمد آباد میں واقع تھی۔اس سوسائٹی میں
متمول مسلمانوںنے گھر یا فلیٹ بنا رکھے تھے۔تاہم بعض غیر مسلم گھرانے بھی آباد تھے۔یہ سوسائٹی کانگرس کے مشہور رکن لوک سبھا ،احسان جعفری نے بنوائی تھی ۔وہ بھی مع اہل خانہ و ہیں مقیم تھے۔
   چو دہ سال قبل اچانک سوسائٹی میں آباد چالیس گھرانوں پر آفت ٹوٹ پڑی۔ ہوا یہ کہ ۲۷فروری ۰۰۲ ۲ کو ریاستی شہر ،گوادر میں سبر امتی ایکسپر یس نامی ریل کی چند بوگیاں پراسرار انداز
میں جل کر راکھ ہو گئیں ۔ان میں سنگھ پریوار [قوم پرست ہندو جماعتوں ]کے کارکن سوار تھے ۔ وہ بھی جل کر کوئلہ بن گئے ۔سنگھ پریوار نے دہائی مچادی کہ انکی بوگیوںکو گودھرا کے مسلمانوں نے ’’منصوبہ بندی‘‘سے آگ لگائی ہے ۔ وزیر اعلی نریندر مودی سمیت سنگھ پریوار کے تمام مسلمان مخالف لیڈ ر اشتعال انگیزتقریریں کرنے لگے جنہوں نے ہندووَں کے جذبات بھڑکا دیے۔چنانچہ۲۸ فروری پوری ریاست میں ہندووں کے مسلح جھتے مسلمانوں کے گھروں،دکانوں اور املاک پر حملے کرنے لگے۔ اس دن ہندو غنڈے حیوان بن گئے۔
انہوں نے نہتے بے بس مسلمانوں پر جو خوف ناک مظالم ڈھائے،ان کی بابت جان کر انسان ٹھرا اٹھتا ہے۔انتہائی تکلیف دہ امر یہ ہے کہ سنگھ پریوار کے غنڈوں کو وزیراعلی گجرات نریندر مودی کی مکمل حمایت اور شیرآبادحاصل تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ان دنوں ریاست گجرات کے ڈھائی تین ہزار مسلمانوںکا لرزہ خیز قتل عام نریندر مودیکی قیادت میں انجام پایا۔اس امر کی گواہی کئی باضمیر ہندو بھی دے چکے۔
        ۲۸ فروری کی صبح ہندووں کے ایک جتھے نے گلبرگ سوسائٹی کا محاصرہ کرلیا۔احسان جعفری نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کی خاطر پولیس سے مدد مانگی ،ڈپٹی کمشنر کوفون کیے۔حتیٰ کہ وزیر اعلی سے بھی رابطہ کیا،مگر کوئی شنوائی نہ ہو ئی ۔واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ گلبرگ سوسائٹی کا محاصرہ ’’چھ گھنٹے‘‘ تک جاری رہااور پولیس محصورین کی مددکرنے نہ
پہنچ سکی ۔
  سہ پہر تک سوسائٹی کے باہر چار پانچ ہزار مسلح ہندو جمع ہو چکے تھے۔یہ ہندو ترشولوں،تلواروں ،بندوقوں ،چھروںاور مٹی کے تیل والوں ڈبوں سے لیس تھے۔جلد ہی انھوں نے اہل سوسائٹی پرہلہ بول دیا۔وہہر مسلمان کو پکڑتے ،چھروں سے ان کے اعضا کاٹتے اور ان پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دیتے ۔ احسان جعفری سمیت ۳۵ مسلمان مردو عورتیں اسی بے رحمانہ انداز میں شہید کر دئیے گئے ۔سو سائٹی کے ۳۱ مکینوں کا آج تک پتا نہیں چل سکا کہوہ کہاں گئے۔یوںاس دن ہندوغنڈوں نے ہنستی بستی گلبرگ سوسائٹی کے مکینوں کو تبا ہ و برباد کر ڈالا۔سوسائٹی کے چند مکین خوش قسمتی سے اپنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔ ان میں احسان جعفری کی بیگم ذکیہ اور ایک پارسی خاتون ،روپا بہن مودی شامل تھیں ۔روپا بہن سوسائٹی
میںاپنے شوہر،سائرس،دس سالہ بیٹے اظہرمودی اور بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں۔ ۲۸ فروری کے ہنگامے  میںان کا بیٹا لاپتہ ہو گیااور پھر کبھی نہ مل سکا۔روپا بہن کی خون آلود داستان پر ایک
فلم’’پارزینہ ‘‘ بھی بن چکی ہے۔احسان جعفری نے مودی کو فون کیا تو مودی کہنے لگا کہ تم ابھی زندہ ہو۔۔۔